0

طویل خشک سالی کے چلتے دریائے جہلم اور دیگر آبی ذخائرمیں پانی کی سطح کافی کم

سری نگر:۳۱، ستمبر: جے کے این ایس : گزشتہ تقریباً2ماہ سے جاری طویل خشک سالی اور شدید گرمی کے چلتے دریائے جہلم ،جھیلوں ،چشموں اور تالابوں میں پانی کی سطح کم ہوجانے کے نتیجے میں محکمہ جل شکتی کو صارفین کیلئے ہمہ وقت پینے کے پانی کی سپلائی برقراررکھنا مشکل بن گیاہے ،اورایسے میں متعلقہ محکمے نے پانی کی فراہمی یا سپلائی کیلئے کٹوتی کردی ہے ،یاکہ مختلف علاقوںکو صبح کے وقت باری باری پانی فراہم کیا جاتاہے ۔پانی کی کم دستیابی کے چلتے سری نگر میں شالیمار سمیت وادی کے متعدد علاقوںمیں پینے کے پانی کی عدم دستیابی یا عدم فراہمی نے شدید گرمی کے رواں دنوںمیں عام آدمی کیلئے سخت مشکلات پیدا کردئیے ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق ماہ جون کے وسط سے بارشیں نہ ہونے اور خشک موسمی صورتحال کے طول پکڑجانے کے نتیجے میں دریائے جہلم ،جھیل وُلر ،ندی نالوں ،چشموں اور تالابوںمیں پانی کی سطح کافی کم ہوگئی ہے جبکہ کئی علاقوںمیںکنویںاور موٹر پمپ بھی سوکھ گئے ہیں ۔محکمہ جل شکتی کے ذرائع نے بتایاکہ آبی ذخائر جن پر محکمے کی بیشتر واٹر سپلائی اسکیموںکا دارومدار ہے ،وہاں پانی کی سطح اورمقدار اتنی کم ہوگئی ہے کہ واٹر سپلائی اسکیموں کے ذریعے پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہوگئی ہے ۔انہوںنے بتایاکہ اب محکمہ جل شکتی نے وادی کے کئی علاقوںمیں ٹینکروںکے ذریعے پانی کی فراہمی شروع کردی ہے ،لیکن اسکے باوجود محکمہ سبھی متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ پارہاہے ۔ذرائع نے بتایاکہ واٹر سپلائی اسکیموںمیں درکار پانی کی سپلائی میں تقریباًپچاس فیصد تک کمی آئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اب محکمہ جل شکتی نے لوگوں کیلئے پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے کٹوتی طریقہ کار اپنایاہے ،جسکے تحت مختلف علاقوںکو باری باری یاکسی مخصوص وقت پر پانی فراہم کیا جاتاہے ۔محکمہ جل شکتی کے ایک انجینئر نے بتایاکہ خشک موسمی صورتحال کے طول پکڑ جانے سے محکمہ کوسخت مشکلات درپیش ہیں ،اور ہمارے لئے ہمہ وقت نلوںکے ذریعے پانی کی فراہمی یا سپلائی کو برقراررکھنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن بن گیاہے ۔انہوںنے لوگوں سے پانی کو صحیح طور پر استعمال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ لوگ گھروںمیں نہاتے اور کپڑے وبرتن دھوتے یاصاف کرتے وقت پانی کو ضائع نہ کریں ،بلکہ بڑے برتنوں یعنی بالٹین اور ٹب وغیرہ میں اتنا پانی رکھیں ،جتنا نہانے یا دیگر کاموں کیلئے ضروری ہو۔انجینئرموصوف نے پینے کے پانی کو تعمیراتی کاموں ،گھروںکی پارکوں وباغوں کو سیراب کئے جانے کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہاکہ لوگ گھروںیا ورکشاپوں میں گاڑیاں دھونے یا صاف کرنے کیلئے پینے کاپانی استعمال نہ کریں ۔اس دوران مختلف علاقوں بالخصوص بالائی علاقوں کے لوگوںنے بتایاکہ دریاﺅں اورندی نالوں وغیرہ میں پانی کی سطح کافی کم ہوجانے سے اُن کے ہاں کنویں اور موٹر پمپ سوکھ گئے ہیں۔سنگھ پورہ دلنہ بارہمولہ کے ایک نوجوان فیاض احمد راتھر نے کہاکہ اُن کے علاقے میں بیشتر کنویں اور واٹر یا موٹر پمپ سوکھ گئے ہیں ۔انہوںنے بتایاکہ جس موٹر پمپ میں ہمہ وقت پانی دستیاب رہتاتھا،وہاںسے بمشکل پانی کاایک بالٹین نکلتاہے ۔دریں اثناءپینے کے پانی کی عدم فراہمی سے متاثرہ بستیوں کے لوگ سخت پریشان اور نالاں ہیں ۔بدھ کو شہر کے مضافاتی علاقے شالیمار سمیت کئی بستیوںکے لوگوںنے احتجاج کرتے ہوئے پینے کے پانی کی فراہمی میں بہتری لانے کامطالبہ کیا۔سری نگر کے شالیمار علاقے کے مکینوں نے بدھ کو جل شکتی محکمہ کے خلاف انہیں مناسب پانی کی فراہمی میں ناکامی پر احتجاج کیا۔علاقے کی سینکڑوں خواتین نے سڑک بلاک کر دی جس سے علاقے میں ٹریفک جام ہو گیا۔ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی نے ہمیں سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے پر مجبور کیا ہے۔احتجاجی خواتین کا کہنا تھا کہ ہمیں پانی کی مناسب فراہمی نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حکام کی جانب سے یقین دہانیاں کروائی گئی ہیں لیکن اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا گیا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے بجائے علاقے میں پینے کے پانی کی سہولتیں بحال کریں تاکہ علاقے کے لوگوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر سری نگر اور متعلقہ محکمے کے حکام سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں اور ان کے حقیقی مطالبات کو جلد از جلد پورا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں