0

غزہ پر اسرائیلی حملوں سے 1.23 لاکھ افراد بے گھر ہوئے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ، 10 اکتوبر (یو این آئی) اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) نے کہا کہ اسرائیلی حملوں کی وجہ سے 123000 سے زیادہ لوگ اندرونی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں اوسی ایچ اے نے کہا کہ اسرائیلی فضائی حملوں اور گولہ باری میں گھروں اور اپارٹمنٹ کی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے غزہ میں چار بڑے رہائشی ٹاور تباہ ہو گئے ہیں اور چھ ہیلتھ ورکرز ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔ وہیں سات صحت کی سہولیات اور نو ایمبولینسز کو نقصان پہنچا۔ پانی، صفائی اور حفظان صحت کی سہولیات کا نقصان ہونے سے غزہ میں چار لاکھ سے زائد افراد کو مسائل کا سامنا ہے۔ غزہ پاور پلانٹ اب بجلی کا واحد ذریعہ ہے اور اس کا ایندھن بھی چند دنوں میں ختم ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین (یواین آر ڈبلیو اے) کا اندازہ ہے کہ بے گھر ہونے والے افراد میں سے نصف سے زیادہ درجنوں اسکولوں میں پناہ لے رہے ہیں۔ یواین آر ڈبلیو اے نے پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے اور اہم مدد فراہم کرنے کے لیے ہنگامی پناہ گاہوں کو نامزد کیا ہے۔

یواین آر ڈبلیو اے نے کہا کہ غزہ میں بے گھر افراد اور میزبان کمیونٹی دونوں کے لیے نقد امداد کی بھی فوری ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے غزہ میں داخلی طور پر بے گھر ایک لاکھ افراد کے لئے خوراک کی تقسیم شروع کردی ہے جو یو این آر ڈبلیو اے کی پناہ گاہوں میں پناہ گزین ہیں۔

اگلے چند دنوں میں تنازعہ بڑھنے پر، ڈبلیو ایف پی نے خوراک اور نقد امداد کے ساتھ آٹھ لاکھ لوگوں کو مدد فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، اگر ضروری فنڈ ​​دستیاب کرایا جائے۔ دوجارک نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ ڈبلیو ایف پی کو اگلے ماہ 805000 افراد تک پہنچنے کے لیے 1.68 کروڑ امریکی ڈالر کی ضرورت ہے۔

ترجمان نے متنبہ کیا کہ اگر مزید لوگ آتے ہیں تو مستقبل قریب میں عالمی ادارہ کے پاس سپلائی ختم ہوسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں