0

فلسطین اسرائیل جنگ سے عالمی سطح پر افراتفری قالین کی مانگ میں کمی کا رجحان، صنعت کو دھچکہ لگنے کا اندیشہ

سرینگر/05نومبر/ایس این این// فلسطین اسرائیل کے مابین جنگ چھڑ جانے کے بعد عالمی سطح پر افرا تفری کا ماحول پھیل گیا ہے جس کے نتیجے میں قالین صنعت کو کافی دھچکہ لگنے کا امکان ہے۔ گزشتہ دنوں بھدوہی کے قالین میگا مارٹ میں منعقدہ انڈیا کارپیٹ ایکسپو-2023 میں کئی ریاستوں کے قالین کے ساتھ ساتھ کشمیری قالین بھی نمائش میں رکھے گئے تھے تاہم کئی اہم کاروباری شخصیات نے انکشاف کیا ہے کہ قالین کی مانگ کم ہوئی ہے جس سے کشمیری قالین صنعت کو بھی دھچکہ لگنے کا امکان ہے۔ امریکہ ہندوستانی قالین کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے، جہاں تقریباً ہندوستان کے 60 فیصد ہاتھ سے بنے ہوئے قالین برآمد کئے جاتے ہیں۔سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق عالمی سطح پر افراتفری اور جنگی جنون کے درمیان قالین کے کاروبار پر منفی اثرات کے خدشے کو لے کربرآمد کنندگان کی تشویش بڑی ہے۔ گزشتہ دنوں بھدوہی کے قالین میگا مارٹ میں منعقدہ انڈیا کارپیٹ ایکسپو-2023 میں ملنے والے برآمدی آرڈر برقرار رہیں گے یا نہیں اس تعلق سے برآمد کنندگان فکر مند ہیں۔کارپیٹ ایکسپورٹ پروموشن کونسل (سی ای پی سی) کے سینئر ممبرنے کہا کہ حال ہی میں بھدوہی میں منعقدہ انڈیا کارپیٹ ایکسپو میں برآمد کنندگان اور کونسل نے ایک بہت بڑا برآمدی ہدف مقرر کیا تھا۔ جس کے برعکس صرف 4 ہزار کروڑ روپے کے ایکسپورٹ آرڈر موصول ہونے اندازہ لگایا گیا تھا۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازعہ کا قالین کے کاروبار پر خاصا اثر پڑ رہا تھا کیونکہ روس اور یوکرین دونوں کا شمار ہندوستانی قالین کے بڑے درآمد کنندگان میں ہوتا ہے۔ جنگ کی وجہ سے دونوں ممالک کی برآمدات خاصی متاثر ہوئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کی وجہ سے دنیا کیمپوں میں پھنسی ہوئی نظر آرہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ ہندوستانی قالین کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔ جہاں تقریباً ہندوستان کے 60 فیصد ہاتھ سے بنے ہوئے قالین برآمد کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح تقریباً 30 فیصد برآمدات مغربی ممالک جرمنی، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ، ناروے، انگلینڈ، نیدرلینڈ، آسٹریلیا اور فرانس سمیت دیگر ممالک کو جاتی ہیں۔ باقی 10 فیصد میں خلیجی ممالک سمیت دنیا کے دیگر تمام ممالک شامل ہیں۔ جنگ کے درمیان افراتفری کے باعث عالمی منڈی میں غیر یقینی کی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب کناڈا بھی ہندوستانی قالین کی درآمد کرنے والا ایک اچھا ملک رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو کناڈا کے ساتھ بھی بگڑتے سفارتی تعلقات کی وجہ سے وہاں سے قالین کی برآمدات کے حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع کا دائرہ بڑھتا ہے تو امریکہ کے اتحادی مغربی ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں مغربی ممالک کو قالین کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ایک قالین برآمد کرنے والے نے کہا کہ جنگ جیسی صورتحال میں لوگ اپنے وسائل کو محدود کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ مستقبل میں حالات کیسے ہوں گیاس کے پیش نظر اخراجات میں کمی کرنا ایک فطری عمل بن جاتا ہے۔ قالین ایک مکمل لگڑری آئٹم ہونے کی وجہ سے اس کی درآمد ہمیشہ منفی حالات میں بری طرح متاثر ہوتی رہی ہے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ حال ہی میں بھدوہی میں منعقد ہونے والی انڈیا کارپٹ ایکسپو 2023 میں 4 ہزار کروڑ روپے کے آرڈر موصول ہوں گے، اگر جنگ کا دائرہ بڑھتا ہے تو تمام آرڈرز منسوخ ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔واضح رہے کہ ایکسپومیں ملک کی دیگر ریاستوں میں بننے والی قالین کے علاوہ کشمیری قالین بھی نمائش میں رکھے گئے تھے تاہم ایکسپو میں شرکت کرنے والے کئی کشمیری تاجروں نے اس بات کاانکشاف کیا ہے کہ اس بار ایکسپو میں قالین کی مانگ میں کمی دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ عالمی سطح پر جاری افراتفری کا نتیجہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں