0

فوجی سربراہ نے جموں میں سیکورٹی منظر نامے کا جائزہ لیا

جموں،04جولائی:فوجی سربراہ جنرل اوپیندرا دیویدی نے نگروٹہ میں فوج ، پولیس ، سی آر پی ایف اور خفیہ ایجنسیوں سے وابستہ سینئر آفیسران کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران جموں وکشمیر کی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا ۔
انہوں نے خطے میں مکمل امن و امان کے قیام کی خاطر سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان قریبی تال میل کوناگزیر قرار دیا۔
جموں نیشن دفاعی ترجمان نے ایکس پر جانکاری فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ فوجی چیف جنرل اوپیندرا دیویدی نے نگروٹہ میں ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی میٹنگ کی صدارت کی۔
اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں شمال مشرقی کمان کے سربراہ ، جی او سی وائٹ نائٹ کارپس،جی او سی چنار کارپس، جی او سی رائزنگ سٹار کارپس ، جموں وکشمیر پولیس کے سربراہ آر آر سوئین، اے ڈی جی پی لا اینڈ آرڈر وجے کمار، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سی آر پی ایف اور خفیہ ایجنسیوں سے وابستہ سینئر آفیسران نے شرکت کی۔
موصوف ترجمان کے مطابق میٹنگ کے دوران فوجی چیف کو پاور پوائنٹ پرزنٹیشن کے ذریعے جانکاری فراہم کرتے ہوئے بتایا گیا کہ حالیہ ملی ٹینٹ حملوں کے بعد جموں صوبے خاص کر راجوری اور پونچھ کے جڑواں اضلاع میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔
آرمی چیف نے میٹنگ کے دوران کہا:’ امن دشن عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی خاطر سرحدوں پر مزید چوکسی برتنے کی ضرورت ہے۔‘
میٹنگ کے دوران فوجی سربراہ نے پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں پر زور دیا کہ سماج دشمن عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی خاطر آپسی تال میل کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ملک دشمن عناصر کے منصوبوں کو خاک میں ملانے کی خاطرزمینی سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہیں۔
آرمی چیف نے کہاکہ پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر تعینات فوج کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا جبکہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت فوجی جوان ملک مخالف عناصرکو سخت جواب دے رہے ہیں۔
اس سے قبل آرمی چیف کو فوج کے سینئر آفیسران نے سرحدوں کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی۔
اوپیندرا دیویدی کو مخالفین کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری فراہم کی گئی۔
بتادیں کہ 30 جون کو ملک کے 30 ویں فوجی سربراہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ جموں و کشمیر ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ موصوف فوجی سربراہ بدھ کی صبح جموں پہنچے اور سیدھے سرحدی ضلع پونچھ روانہ ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ فارورڈ علاقوں کا فضائی جائزہ لینے سے قبل انہوں نے پونچھ میں فیلڈ کمانڈروں کے ساتھ میٹنگ کی۔
ان کا کہنا تھا کہ فوجی سربراہ نے جوانوں کے ساتھ بات چیت کی اور آپریشنل تیاریوں اور سرحدی علاقے میں سیکورٹی ڈھانچے کا بھی جائزہ لیا۔
یو این آئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں