0

فیس کی صورت میں نجی تعلیمی اداروں کو سالانہ کروڑوںروپے آمدنی حاصل

214 کنال پرائم اراضی کے عوض مشینری اسکولوں پرمحض39,375روپے سالانہ کرایہ عائد،لیز معاہدے بالائے طاق :مضمون میں انکشاف
سری نگر:۱۱، جولائی:جے کے این ایس : اسبات کاانکشاف ہواہے کہ کشمیر کے اطراف واکناف میں قائم پرائیویٹ تعلیمی ادارے نرسری سے دسویں جماعت تک زیرتعلیم 10لاکھ سے زیادہ طلباءاور طالبات سے صرف ٹیوشن فیس کی صورت میں سالانہ 500سے700کروڑ روپے تک کی آمدنی حاصل کرتے ہیں ۔ساتھ ہی اسبات کا انکشاف بھی ہوا ہے کہ صرف سری نگرمیں قائم مشینری اسکولوں سے اُن کی زیر تحویل214کنال پرائم اراضی کے عوض سالانہ صرف 39ہزار375روپے کاکرایہ وصول کیاجاتاہے ۔جے کے این ایس کے مطابق چیف کشمیر سیوا سنگھ فردوس بابا نے ایک مضمون میں پرائیویٹ اسکولوں کے قیام ،رول ،کارکردگی ،تعلیم کی آڑمیں تجارت اور من مانیوں کا پوسٹ مارٹم کیاہے ۔انہوںنے ایک تفصیلی مضمون میں انکشاف کیا ہے کہ زمینی قانون کے مطابق پرائیویٹ اسکولوں کو تجارتی ادارے نہیں ہونا چاہیے۔ جبکہ جموں و کشمیر میں، ان اسکولوں کو غیر منافع بخش تنظیموں کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، جو معاشرے کی خدمت کےلئے لازمی ہیں۔تاہم، زمینی حقیقت کچھ اور ہی بتاتی ہے، کیونکہ وادی کشمیر میں نجی اسکول تیزی سے منافع بخش کاروباری مراکز بن گئے ہیں۔ یہ تبدیلی تعلیم کے شعبے میں منافع بخش مقاصد کے حامل افراد کے ذریعے چلائی گئی ہے، اور اس طرح اسے ایک تجارتی ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے معاشی طور پر پسماندہ خاندانوں کو بہت نقصان پہنچا ہے۔مضمون میں دئیے گئے اعدادوشمار کے مطابق فی الحال، وادی کشمیر کے پرائیویٹ اسکولوں میں نرسری سے لے کر دسویں جماعت تک تقریباً 10لاکھ25ہزار طلباءوطالبات داخل ہیں۔ ان طلباﺅطالبات کی اکثریت معمولی پس منظریعنی غریب اورمتوسط گھرانوں سے آتی ہے۔ والدین کےساتھ جو اپنے بچوں کو بہترین تعلیم فراہم کاعزم لئے نجی اسکولوںکی ہرمانگ کو پورا کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے پرائیویٹ ا سکولوں کے مالکان نے والدین کی اس نیک خواہش کا استحصال کرتے ہیں۔ بہت سے اسکول مختلف بہانوں سے داخلہ فیس عائد کرتے ہیں، ان فیسوں کو’ایڈوانس یا داخلہ فیس‘کے طور پر لیبل کرنے کا سب سے عام حربہ ہے۔ یہ ہوشیار چال نجی اسکولوں کے مالکان کو حکام کی جانب سے تعزیری اقدامات سے بچنے میں مدد کرتی ہے جو بصورت دیگر غیر قانونی داخلہ فیس وصول کرنے پر ان پر جرمانہ عائد کریں گے۔ فردوس بابا نے مضمون میں مزید لکھاہے کہ متعدد پرائیویٹ اسکول، فیس فکسیشن اینڈ ریگولیشن کمیٹی (FFRC) کی جانب سے مقرر کردہ رہنما خطوط کو نظر انداز کرتے ہیں اور مقررہ حد سے زیادہ فیس وصول کرتے ہیں۔ والدین اکثر ان اسکولوں کےخلاف بے اختیار محسوس کرتے ہیں، جو کسی بھی اختلاف کو دبانے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے میں ماہر ہیں۔ مزید برآں، تقریباً تمام پرائیویٹ اسکول سالانہ فیس وصول کرتے ہیں، اس کے باوجود کہ صرف چند ایک کے پاس یہ فیسFFRC کے ذریعے ریگولیٹ ہوتی ہیں۔بمطابق مضمون ،زمینوں پر قبضہ ایک اور مسئلہ ہے۔ لال چوک کے ارد گرد کئی مشنری سکولوں نے سرکاری زمین پر قبضہ کر رکھا ہے یاکہ سرکارنے یہ زمین لیز پر دی ہے۔ یہ اسکول مجموعی طور پر214 کنال پرائم اراضی،جسکی قیمت 3250کروڑ کے لگ بھگ ،کے عوض سالانہ صرف 39 ہزار375روپے کرایہ اداکرتے ہیں۔ مضمون نگار کے مطابق سری نگر کی ایک مشنری سوسائٹی کے ایک اندرونی نے اندازہ لگایا کہ ان اسکولوں کی سالانہ آمدنی450سے500کروڑ روپے کے درمیان ہے۔ لیکن پھر بھی مشینری اسکول کے منتظمین لیز کے معاہدوں میں اس شرط ،کہ ان اسکولوں کو زمین کے عوض اپنے25 فیصد طلباءکو مفت تعلیم فراہم کرنا ہوگی، لیکن مشینری اسکولوں کی جانب سے اس شرط کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔مضمون نگار فردوس بابا نے لکھاہے کہ مزید برآں، نہ تو یہ اسکول اور نہ ہی خطے میں کوئی اور نجی اسکول قومی تعلیمی پالیسی2020 کی پابندی کر رہے ہیں، جس میں غریب پس منظر کے بچوں کے لیے25فیصد فری شپ کوٹہ لازمی ہے۔ جبکہ دیگر معاملات بشمول درس وتدریس اور نصاب وغیر ہ کے معاملے میں بھی پرائیویٹ تعلیمی ادارے بشمول مشینری اسکول من مرضی اقدامات اور پالیسی پرعمل پیرا یا بضد ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں