0

قانون سازوں کو دی گئی آئین کی کاپیوں سے’سیکولر، سوشلسٹ ‘کے الفاظ غائب

معاملہ سنگین،الفاظ چالاکی سے ہذف: اپوزیشن
یہ ہے آئین کی اصل کاپی،’سوشلسٹ، سیکولر‘الفاظ بعدازاں شامل:مرکزی وزیرقانون
سری نگر:۰۲، ستمبر: جے کے این ایس : کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے بدھ کو الزام لگایا کہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے افتتاحی دن قانون سازوں کو دی گئی آئین کی کاپیوں میں ”سیکولراور سوشلسٹ“کے الفاظ غائب تھے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ الفاظ کو ’چالاکی سے ہٹا دیا گیا ہے‘ اور بی جے پی حکومت کی نیتوں پر شک ظاہر کیا ہے۔انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ آئین کی تمہید جو کاپی ہم نئی عمارت میں لے کر گئے اس میں سیکولر اور سوشلسٹ کے الفاظ شامل نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ ان الفاظ کو چالاکی سے ہٹا دیا گیا ہے، یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور ہم اس معاملے کو اٹھائیں گے۔چودھری نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ الفاظ بعد میں 1976 میں آئین میں شامل کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ میرے لیے یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ مجھے ان کی نیتوں پر شک ہے کیونکہ ان کا دل اس پر صاف نہیں لگتا۔لوک سبھا میں کانگریس کے قائد ایوان نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی آج آئین کی کاپی دیتا ہے تو اسے آج کی طرح اس کا ورڑن ساتھ رکھنا چاہئے۔سی پی آئی کے بنوئے وسوام نے ’سیکولر، سوشلسٹ‘کے الفاظ کو چھوڑنے کو ایک جرم قرار دیا، کئی اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ بشمول بائیں بازو اور دیگر پارٹیوں کے ممبران اپنی میٹنگ میں اس معاملے کو اٹھا سکتے ہیں۔ تاہم، وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے کہا کہ آئین کی کاپیوں میں آئین کی تمہید کا اصل ورژن تھا اور یہ الفاظ یعنی ’سیکولر، سوشلسٹ‘بعد میں آئینی ترامیم کے بعد اس میں شامل کیے گئے تھے۔انہوںنے کہاکہ یہ اصل تمہید کے مطابق ہے۔ ترامیم بعد میں کی گئیں۔آئین کی نئی کاپیوں میں”سوشلسٹ، سیکولر“ کے الفاظ غائب ہونے کے اپوزیشن کے الزامات کو رد کرتے ہوئے، مرکز ی وزیرنے بدھ کو زور دے کر کہا کہ یہ اصل آئین کی نقل ہے کیونکہ یہ الفاظ بعد میں ترمیم کے تحت شامل کئے گئے تھے۔مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے لوک سبھا کے خصوصی اجلاس میں کہاکہجب آئین تیار کیا گیا تھا، یہ اس طرح تھا۔ بعد میں ترمیم کی گئی۔ یہ اصل کاپی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے ترجمان نے بھی یہی جواب دیا ہے۔مرکزی وزیر کا یہ تبصرہ اس وقت آیا جب لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری اور ایک اور رکن پارلیمنٹ ڈولا سین نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان کے آئین کے دیباچے سے ”سوشلسٹ اور سیکولر“الفاظ کو خارج کر دیا گیا ہے – جس کی نئی کاپیاں منگل کو ارکان پارلیمنٹ میں تقسیم کی گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں