0

قومی بیماری : جسکا علاج ضروری ہے

اس قوم کے اندر جہاں بہت ساری خوبیاں ہیں وہاں کچھ خامیاں بھی ہیں اور ان میں سے ایک بڑی خامی افواہ بازی ہے ۔ پرانے زمانے میں افواہ باز کو ’’ ٹر باز ‘‘ کہا جاتا تھا ۔ اوراسے سماج میں ایک مقام بھی حاصل تھا ۔ وہ اگر عزت کا مقام نہیں تھا تو بے عزتی کا مقام بھی نہیں تھا ۔ مجلسوں اور محفلوں میں ’’ ٹرباز ‘‘ کی بڑی آو بھگت ہوا کرتی تھی ۔ رفتہ رفتہ ٹربازی ہمارے قومی کردار کا حصہ بن گئی اور بیسوی صدی میں ٹربازی نے افواہ بازی کا قدرے زیادہ معتبر لقب حاصل کیا ۔ چنانچہ افواہ بازی ہمارے اجتماعی کردار کا حصہ بن گئی اور نہ صرف یہ کہ افواہیں پھیلانے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں بلکہ افواہوں پر یقین کرنے میں بھی دنیا کی کوئی قوم ہم سے بازی نہیں لے جاسکتی ۔ سنی سنائی باتوں کو بغیر ان کی صداقت کو جانچے سچ مان کر پھیلایا جاتا ہے اس طرح خود اپنے لئے کئی پریشانیاں اور مصیبتیں کھڑی کردی جاتی ہیں جن پر بعد میں پچھتایا جاتا ہے ۔ جب کبھی بھی کوئی مشکل صورتحال پیدا ہوتی ہے تو افواہوں کا بازار گرم ہوجاتاہے اور نئی نئی کہانیاں اور افسانے گڑھ کر پھیلانے میں ہر کوئی مصروف نظر آتا ہے ۔ جب سے سوشل میڈیا کی سہولت دستیاب ہوئی ہے افواہوں کی تخلیق کرنا اور انہیں پھیلانا اور زیادہ آسان ہوگیا ہے چنانچہ اب ہر اہم موقعے پر حقائق پس پردہ چلے جاتے ہیں اور افواہیں عام ہوجاتی ہیں ۔ پچھلے پنتیس سال کے عرصے میں غیر معمولی اور غیر یقینی حالات نے افواہ بازی کو زبردست فروغ دیا ۔ ایسی افواہیں روز زبان زد عام ہوتی تھی جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا ۔ لیکن لوگ یہ جانتے ہوئے بھی یہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوسکتا افواہوں پر یقین کرتے تھے اور انہیں آگے بڑھاتے تھے ۔ کبھی کبھی یہ افواہیں محفلو ں ، مجلسوں اور شاہراہوں پر زیر بحث آتی ہیں کہ موجودہ ایل جی واپس جانے والے ہیں ۔ کوئی کسی سے یہ نہیں پوچھتا کہ اس نے کہاں سے یہ بات سنی ۔ سب کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اورسننے والے یقین کرلیتے ہیں ۔ کبھی اس بات پر زور دار مباحث ہوتے ہیں کہ دفعہ 370بحال کرنے کے حق میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے والا ہے ۔ یہ بات کہنے والے سے کوئی نہیں پوچھتا کہ سپریم کورٹ کے جس جج کے ساتھ اس کی اتنی قربت ہے کہ اس نے فیصلہ سنانے سے پہلے ہی اس کو بتادیا ۔ کبھی جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات ہونے کی افواہ اڑتی ہے اور کبھی نہ ہونے کی دونوں طرح کی افواہیں ایک ہی طرح کے لوگ اڑاتے ہیں اور کل جو بات کہی تھی آج بے شرمی کے ساتھ اس کے برعکس دوسری بات کہتے ہیں اور کوئی ان سے سوال نہیں کرتا کہ کل جو وہ کہہ رہے تھے کیا تھا اور آج جو کہہ رہے ہیں کیا ہے ۔ سرکاری خزانہ خالی ہونے کی افواہ وہ لوگ اڑاتے ہیں جنہیں معلوم ہی نہیں کہ خزانہ کیا ہوتا ہے ۔ آج کل حالات سے متعلق افواہیں نہیں اڑ رہی ہیں لیکن کچھ عرصے سے جاری تجاوزات مہم ختم کرنے سے متعلق بہت سارے خدشات، انتخابات کے بارے میں قیاس آرائیاں اور نئے وزیر اعلے کے متعلق بھی افواہیں عام ہیں حالانکہ جو لوگ یہ افواہیں اڑا رہے ہیں کسی جانکاری یا کسی اندازے کی بنیاد پر نہیں صرف سنی سنائی باتوں کی بناء پر اڑا رہے ہیں اورلوگ ان باتوں پر اس لئے بھروسہ کررہے ہیں کہ افواہوں پر بھروسہ کرنا ان کی عادت میں شامل ہوچکا ہے ۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کشمیر کے حالات کافی عرصے سے ایسے رہے ہیں کہ کبھی بھی کچھ بھی ایسا ہوا ہے جس کا گمان بھی نہیں تھا لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ کچھ ہونے کی افواہیں اڑائی جائے ۔ یہ دور انٹرنیٹ کا دور ہے اور اس دور میں حقائق کو چھپانا بہت ہی مشکل ہے ۔ حقائق کا پتہ لگانا بہت آسان ہے لیکن جو قوم حقائق کا پتہ لگانا ہی نہیں چاہتی ہو اور افواہوں پر اعتبار کرنا جس کے مزاج میں شامل ہو اس قوم کے سامنے حقیقت سارے پردے توڑ کر بھی آجائے وہ اسے رد کردے گی اور اس کی جگہ نئی افواہ کو تلاش کرے گی ۔ لوگ بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر جو لوگ مصروف ہوتے ہیں ان میں سے اکثر پیشہ ور افواہ باز ہوتے ہیں ۔ افواہ کی تحلیق ان کا واحد کام ہوتا ہے اور اس کو پھیلانے کے لئے انہیں کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی ہے ۔ افواہ کی تحلیق کے ساتھ ہی وہ سارے کشمیر میں زبان زد عام ہوتی ہے اور لوگ ایک دوسرے کو اس کی حقیقت کا یقین دلانے میں مصروف نظر آتے ہیں ۔ لوگ افواہوں کو حقیقت ہی نہیں سمجھتے بلکہ حقیقت مانتے ہیں اوراسے اوروں تک پہونچانے کا کام بھی کرتے ہیں ۔ جو لوگ یہ جانتے ہیں کہ افواہوں کی وجہ سے کیسے کیسے المئیے رونما ہوئے وہ افواہوں کے خلاف بات تو کرتے ہیں اورافواہ بازوں کے خلاف بھی بولتے ہیں لیکن اس کے باوجو افواہوں پر ہی یقین کرتے ہیں ۔ یہ ایک بہت بڑی قومی کمزور ی ہے جس کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں