0

لیپ ٹاپ انراءڈ فون کے مسلسل استعمال سے برین ٹومر اور کینسر کی بیماری میں چارسوفیصد اضافہ ہونے کا انکشاف

ماہرین نے بچوں بزرگوں کو زیادہ لیپ ٹاپ اور انراءڈ فون سے دور رکھنے کامشورہ دیا

سرینگر;22اکتوبر;اے پی آئیلیپ ٹاپ انراءڈ فون کے مسلسل استعمال سے کینسر ٹومر کی بیماریوں میں اضافہ ماہرین نے بچوں بزرگوں کو لیپ ٹاپ او ر انراءڈ فون مسلسل استعمال نہ کرنے کی صلاح دی ۔ اے پی آ ئی نیوز کے مطابق ماہرین نے اس بات کا انکشاف کیاکہ انراءڈ اورلیپ ٹاپ کے استعمال سے ٹومر کینسر کی بیماریوں میں چا سوگناہ اضافہ ہوا ہے ۔ جموں و کشمیر سمیت ملک کی مختلف ریاستوں مرکزی زیرانتظام علاقوں میں سروے کی گئی اور رپورٹ سامنے آنے کے بعد انسان کے روگھنٹے کھڑے ہوجاتے ہے ۔ جس طرح سے لیپ ٹاپ او رانراءڈ فوں کا استعمال ہورہاہے او ربیماریوں میں اضافہ ہورہاہے وہ قا بل تشویش ہے ۔ جموں وکشمیر میں ایک ہزار 834افراد کی سروے کی گئی 17سو کے قریب افراد کومختلف بیماریوں میں مبتلاپایاگیا دس 1031مرد اور 699 خواتین ان بیماریوں میں مبتلاہے اور ا سکی بنیادی وجہ مسلسل لیپ ٹاپ اور انراءڈ فون استعمال کرنابتایاجارہاہے ۔ ماہرین نے یہ بھی انکشاف کیاکہ 1;46;3%دماغ بچوں اور جوانوں کامتاثر ہوا ہے او 1;46;9%بزرگوں اور خواتین اس سے متاثر ہوا ہے تابکاری کی وجہ سے ٹومراور کینسرکی بیماری سیلاب کی طرح پھیلتی ہے دنیا میں ہرسال تیس لاکھ افراد کینسر کی بیماری کاشکار ہوتے ہیں جن میں دولاکھ ستر ہزار افراد بھارت سے تعلق رکھتے ہے 60%مریض ٹومر اور کینسر کے آخری مرحلے پراسپتالوں کارخ کرتے ہےں ۔ چالیس فیصد دوسرے اور تیسرے مرحلے پرعلاج کراتے ہیں ۔ ماہرین نے ا س بات پرتشویش کا اظہارکیاکہ 21وی صدی میں جہاں ہر ایک انسان کوکسی نہ کسی طرح کے مضر صحت اشیاء کے بارے میں جانکاری حاصل ہے اور یہ بات بھی ماہرین پچھلے کئی برسوں سے بلاجھجک عوام تک پہنانے کی کوشش کررہے ہیں کہ تابکاری کی وجہ سے جموں و کشمیر میں بھی ٹومراو رکینسر کی بیماریوں میں اضافہ ہورہاہے تابکاری سے دور رہنے کی ہرممکن کوشش کرے ۔ ماہرین کے مطابق ہر ایک گھر میں ایک سال سے چھ سال سے چھ سال سے پندرہ سال تک کے بچوں کوکھیلنے کے لئے فون ہاتھوں میں دیاجاتاہے اور کئی بچے مسلسل اسکا استعمال کرتے ہیں اور ان کے والدین اپنے آپ کوبڑا کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہےں اور یہ بچے یاجوان زیادہ سے زیادہ پانچ سے چھ سینٹی میٹرلیپ ٹاپ یاسل فون اپنے سے دور رکھتے ہےں ۔ ماہرین نے کہا لیپ ٹاپ اور سلفون کے مابین کم سے کم30-50کافرق ہوناچاہئے بچوں او بزرگوں کواسکی قطعی طو رپراستعما ل نہیں کرنا چاہئے او رجب بھی کوئی مرد خاتون جوان سونے کے لئے چلاجا ء توہ اپناموبائل فون سوچ آف رکھے سوچ آن رکھنے سے تابکاری نظرانداز ہوتی ہے او رتابکاری سے مہلک بیماریاں پھوٹ پڑتے جن کاعلاج ممکن نہیں بلکہ ناممکن ہوجاتاہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں