0

مالی میں دہشت گردانہ حملے، 49 شہری اور 15 فوجی کی ہلاک

بماکو : مغربی افریقی ملک مالی میں جمعرات کو ہوئے دو دہشت گردانہ حملے میں کم از کم 49 عام شہری اور 15 فوجی ہلاک ہو گئے۔مالی حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو سپورٹ کرنے والے گروپ (جی ایس آئی ایم) نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں حملے اس نے کئے ہیں۔ اسے ناؤ ’ٹومبکٹو‘ کے مسافروں اور گاؤ علاقے میں مالین مسلح افواج (ایف اے ایم اے ) کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دوہرے حملے کے جواب میں، ہمارے بہادر ایف اے ایم اے کے مشترکہ فضائی زمینی آپریشن میں تقریباً 50 دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسافروں کو نکالنے اور مقامات کو محفوظ بنانے کے لیے فوری انتظامات کیے گئے تھے۔حملوں کے چند گھنٹے بعد، مالی کے عبوری صدر اسیمی گوئتا نے جمعرات سے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔سال 2012 کے بعد سے، مالی ایک شورش، جہادی دراندازی اور بین فرقہ وارانہ تشدد سے دوچار ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور سیکڑوں ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔
سرکاری حکام نے بتایا کہ مشتبہ جہادیوں نے دو الگ الگ حملے کیے۔ انہوں نے پہلا حملہ ٹمبکٹو کے قریب دریائے نائیجر میں ایک کشتی پر جب کہ دوسرا حملہ شمالی گاؤخطے میں بامبا میں ایک فوجی اڈے پر کیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق 49 شہری اور15فوجی مار ے گئے۔حکومت کا کہنا ہے کہ اسلامی عسکریت پسند گروپ جے این آئی ایم نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یہ انتہا پسند تنظیم القاعدہ سے وابستہ مسلح گروپوں کا حصہ ہے۔مالی حکومت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے فورسز نے جوابی کارروائی کے دوران تقریباً 50حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔بیان کے مطابق حملوں میں شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکت پر جمعے سے تین روز کے قومی سوگ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔قبل ازیں مالی کی فوج نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ ٹمبکٹو کے قریب جہاز پر “مسلح دہشت گرد گروہوں” نے حملہ کیا ہے۔ اس جہاز کی منتظم کمپنی کومانو نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ جہاز کے انجن کو ہدف بناکر اس پر کم از کم تین راکٹ داغے گئے۔
ٹمبکٹو کی مسلح گروپ نے اگست کے اواخر سے علاقے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے جب مالی کی فوج نے اس علاقے میں کمک بھیجی تھی۔ عسکریت پسند صحرائی شہر مالی میں بنیادی ضرورت کی اشیاء کی فراہمی کو مسلسل روک رہے ہیں۔یہ مہلک حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب اقوام متحدہ حکومت کی درخواست پر مالی میں اپنے قیام امن مشن مینوسما کے 17000 اہلکاروں کو واپس بلانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ان فوجیوں کا انخلاء اس سال کے اواخر تک مکمل ہونا ہے۔اقوام متحدہ نے قیام امن فورسز کو سن 2013 میں تعینات کیا تھا لیکن میمنوسا اقوام متحدہ کا دنیا میں سب سے خطرناک مشن ثابت ہوا۔ اس مشن کے دوران اس کے 300 سے زیادہ اہلکار مارے گئے۔مالی میں بڑھتی ہوئی عدم سلامتی نے مغربی افریقہ کے ساحل خطے میں عدم استحکام کو بڑھا دیا ہے۔ سن 2020 کے بعد سے مالی میں دو بار فوجی بغاوت ہو چکی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جہادی تشدد کو کچلنے کا عہد کر رکھا ہے۔
(یو این آئی/ایجنسیاں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں