0

ماہ جون میں درجہ حرارت بڑھ جانے کے بعدغرقآبی کے متعددواقعات رونمامحض 3ماہ کے دوران تقریباً2درجن افراد ڈوب کرلقمہ اجل

ڈیزاسٹر منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جاری کردہ ایڈوائزری پرکہیںکوئی عمل درآمد نہیں
سری نگر:۸،ستمبر: : ماہ جون میں گرمی کی شدت بڑھ جانے کے بعد سے ابتک جموں وکشمیرمیں 2درجن سے زیادہ افراد نہانے کے دوران یا کہ پھسل جانے سے دریاﺅں اور ندی نالوںمیں ڈوب کرلقمہ اجل بن گئے ،جن میں کئی کمسن بچے،نوجوان ،خواتین اور کچھ فورسزاہلکار بھی شامل ہیں ۔جے کے این ایس کے پاس دستیاب تفصیلات کے مطابق رواں سال ماہ جون میں، کشمیر میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا جس نے اسے گزشتہ 18 سالوں میں گرم ترین مہینہ بنا دیا۔درجہ حرارت میں اضافے کے بعدشدیدگرمی سے راحت پانے کیلئے دریاﺅں اور ندی نالوں نیز جھیلوںکا رُخ کرنے والے متعددافراد بشمول بچے اور نوجوان ڈوب کرزندگیوںسے ہاتھ دھوبیٹھے۔ماہ جون میں ایک درجن سے زیادہ افراد کی کشمیر میں ڈوبنے سے نو اموات ریکارڈ کی گئی۔ماہ جون میں ہی بانڈی پورہ ضلع کے سمبل علاقے میں ایک بہن اپنے بھائی کو بچانے کی کوشش میں ڈوب گئی۔اس سے قبل وادی میں ڈوبنے کے2 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں بارہمولہ کے ایک نوجوان کی سونہ مرگ میں موت ہوگئی، جب کہ دوسرے کو سوپور میں بچائے جانے کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا۔23 جون کو گلمرگ میں ایک خاتون سیاح کی ایک ندی میں گرنے سے موت ہو گئی۔18 جون کو جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے لدر ندی میں ڈوبنے سے ایک شخص کی جان چلی گئی، جب کہ ایک کو تشویشناک حالت میں بچا لیا گیا۔ اسی دن سری نگر کے بمنہ علاقے میں ایک نابالغ لڑکا سیلابی نالے میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔اس سے پہلے 4جون کو اننت ناگ ضلع میں ایک پانچ سالہ لڑکا دریائے لدر میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا تھا۔9 جولائی کو جموں و کشمیر میں بارشوں کی وجہ سے2 فوجیوں سمیت 4 افراد کی موت ہو گئی، جس کی وجہ سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں لینڈ سلپ اور سیلاب آیا۔3 اگست کو ڈوڈا ضلع کے دریائے چناب میں جمعرات کو ایک فوجی جوان سمیت2 افراد کے ڈوب جاگئے جب دونوں ہاتھ دھوتے ہوئے حادثاتی طور پر دریا میں پھسل گئے۔حکام نے بتایا کہ16 اگست کو وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع میں وائل پل کے قریب بدھ کو دریائے سندھ میں ڈوبنے والے ایک نوجوان لڑکے کی لاش برآمد کر لی گئی ہے۔21 اگست کو وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع کے رنگیل میں ایک نوجوان نہاتے ہوئے ڈوب گیا۔وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع کے وائل علاقے میں ایک15 سالہ لڑکا نالہ سندھ میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا۔27 اگست کو بانڈی پورہ ضلع کے شتول پورہ گاو ¿ں میں ڈوبنے سے2 نوجوان بہن بھائیوں کی موت کے بعد غم کی لہر دوڑ گئی۔ رپورٹس کے مطابق21 سالہ نزاکت علی ندی میں نہاتے ہوئے ڈوبنے لگا۔ اسے ڈوبتے دیکھ کر اپنی چھوٹی بہن نزہت نے اسے بچانے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ڈیزاسٹر منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے حکام کاکہناہے کہ انہوں نے ایسی حادثاتی اموات کو روکنے کےلئے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک کنسلٹنٹ محمد سہیل وانی نے کہاکہ ہم نے پہلے ہی ڈپٹی کمشنروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ایڈوائزری میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک شخص کو ماہر کی نگرانی میں آبی ذخائر میں داخل ہونا چاہیے۔ واٹر باڈی پر کافی ریسکیو کور دستیاب ہونا چاہیے-

جے کے این ایس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں