0

محکمہ بجلی کے ملازمین کےلئے حفاظتی شیلڈ کی ضرورت

کام کرنے کے دوران لقمہ اجل بننے والے کیجول لیبروں کے اہلخانہ فاقہ کشی پر مجبور

سرینگر;21اکتوبر;وی او آئی ;محکمہ بجلی میں بطور کیجول لیبر کام کرنے والے جو کہ دوران ڈیوٹی بجلی کرنٹ لگنے یا حادثاتی طور پر فوت ہوجاتے ہیں کے اہلخانہ ایک تو اپنے پیاروں سے محروم ہوجاتے ہیں دوسرا انکے اہلخانہ فاقہ کشی پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ زمینی سطح پر ترسیلی لائنوں کی مرمت کا کام انجام دینے والے ان غریب ملازمین کےلئے حفاظتی شیلڈ ہونے چاہئے جس سے کرنٹ ان کے جسموں تک نہ پہنچ پائے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق محکمہ بجلی کے ملازمین نے جو رواں برس بہترین کارکردگی کامظاہرہ کرکے بجلی کی سپلائی بلا خلل چالو کرنے میں رول اداکیا ہے اس کی عوامی سطح پر کافی تعریفیں ہورہی ہیں تاہم زمینی سطح پر جو ملازمین ترسیلی لائنوں کی مرمت کا کام انجام دے رہے ہیں ان میں زیادہ تر کیجول لیبر ہوتے ہیں جو ہر وقت خطروں سے دوچار ہوجاتے ہیں ۔ آج تک متعدد ملازمین کام کے دوران بجلی کرنٹ سے ہلاک ہوچکے ہیں اور ان فوت شدہ ملازمین کے وارثین کو سرکاری سطح پر کوئی معاوضہ فراہم نہیں کیا جاتا اور نا ہی ان کے اہلخانہ کےلئے روزی روٹی کا کوئی بندوبست کیا جاتا ہے نتیجتاً ان فوت شدہ ملازمین کے اہلخانہ فاقہ کشی اور تنگ دستی کے شکار ہوجاتے ہیں ۔ فیڈل میں جو کام انجام دیتے ہیں ان ملازمین خاص کر کیجول لیبروں کےلئے محکمہ کی جانب راحتی پروگرام مرتب کرنے کی ضرورت ہے اور بجلی کے پولوں پر چڑھ کر ترسیلی لائنوں کی مرمت کرنے والوں کےلئے حفاظتی شیلڈ ہونا چاہئے تاکہ وہ بجلی کی ترسیلی لائنوں کو اگر چھو بھی جائے تو وہ بجلی کرنٹ سے محفوظ رہ سکیں ۔ وائس آف انڈیا نمائندے نمائندے امان ملک کے مطابق آج تک وادی کشمیر میں سینکڑوں ملازمین بشمول کیجول لیبر بجلی کی ترسیلی لائنوں کی مرمت کے دوران لقمہ اجل بن گئے لیکن اس اہم معاملے کی طرف کبھی بھی سرکار نے توجہ نہیں دی ہے جس کے نتیجے میں ہر برس قیمتی جانیوں کا زیاں ہوجاتا ہے ۔ ضرورت ا س بات کی ہے کہ زمینی سطح پر کام کرنے والے ان جانباز بجلی ملازمین خصوصی طور پر کیجول لیبروں کےلئے سرکار کی جانب سے اس طرح کی سکیم وضع ہوجانی چاہئے تاکہ کسی حادثے میں ملازم کی موت کے بعد ان کے اہلخانہ فاقہ کشی اور تنگ دستی کے شکار نہ ہوں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں