0

مخصوص مچھروں کے کاٹنے سے پھیلنے والی بیماری’ڈینگی‘کاجموں میں قہر

امسال5212افراد متاثر،7متاثرہ مریض ازجان
صرف جموں ضلع میں 3 ہزار 339 معاملات،کشمیرمیں ڈینگو کے 23 کیس
سری نگر:۶، نومبر: جے کے این ایس : قدرے مختلف مچھروں کے کاٹنے سے پھیلنے والی بیماری’ڈینگی‘کی وجہ سے جموں میں مریضوں کی تعداد میں گزشتہ کئی روز سے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق گزشتہ کچھ دنوں سے جموں شہر اور اس خطے کے دیگر کچھ اضلاع میں ڈینگو مریضوںکی تعدادمیں تیزی سے اضافہ ہواہے ۔گزشتہ2 دنوں میں جموں خطے میں ڈینگو کے مزید89 معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے48 معاملات صرف جموں ضلع سے سامنے آئے ہیں جبکہ اودھمپور سے25، کٹھوعہ سے11 ،سانبہ ضلع سے9 ، ریاسی ضلع سے5 اور ڈوڈہ ضلع سے ڈھینگو کا ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس سال جموں خطے میں سامنے آئے ڈینگو کے کل معاملات کی تعداد5ہزار212رہی ہے،جن میں سے3 ہزار 339 معاملات صرف جموں ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق اس سال جموں خطے میں اب تک ڈینگو کی بیماری سے5212افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ ابھی تک7 افراد اس بیماری سے فوت ہوئے ہیں۔ذرائع نے بتایاکہ کشمیر وادی میںرواں سال اب تک ڈینگو کے 23 کیس سامنے آئے ہیں۔ بیشتر مریضوں کو علاج و معالجے کے بعد مختلف اسپتالوں سے ر ±خصت کیا گیا ہے اور اس وقت خطے کے مختلف اسپتالوں میں ڈینگو کی بیماری میں مبتلا صرف نوے مریض زیر علاج ہیں۔ ڈینگو کے بیماروں کے علاج و معالجے کےلئے محکمہ صحت نے تمام اسپتالوں میں معقول انتظامات کئے ہیں اور ایسے مریضوں کو ہر طرح کی طبی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔جانکارلوگوں کے مطابق ہر سال اس موسم میں ملک کے دیگر حصوں کی طرح ہی جموں خطے میں بھی ڈینگو کی بیماری پھیلنے کے امکانات رہتے ہیں اور ایسے میں محکمہ صحت بھی قبل از وقت لوگوں کو اس بیماری سے بچنے کے طور طریقوں سے آگاہی دلانے کی مہم شروع کرتا ہے۔ محکمہ صحت نے لوگوں سے پھر ایک بار چوکس رہنے اور صاف صفائی پر پورا دھیان دینے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ہے وہ اپنے آس پاس گندہ پانی جمع نہ ہونے دیں کیونکہ ر ±کے پڑے پانی میں ہی ڈینگو کے مچھر پنپتے ہیں جس سے ڈینگو پھیلنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ا ±دھر وادی کشمیر میں اگرچہ پہلے اس بیماری کا کوئی خدشہ نہیں رہتا تھا۔ تاہم اب چند برس سے وادی کشمیر میں بھی ڈینگو کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔ڈینگی بیماری کاموجب بننے والے مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والی ملیریا نامی بیماری کی اگلی صورت کہی جا سکتی ہے اس بیماری کے مچھر کی ٹانگین عام مچھروں سے لمبی ہوتی ہیں اور یہ مچھر قدرے رنگین سا ہوتا ہے۔ یہ بھی دیگر مچھروں کی طرح گندی جگہوں اور کھڑے پانی میں پیدا ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں