0

معلوم نہیں جمہوریت کی ماں کی ممتا جموں وکشمیر پہنچے پہنچتے کیوں ختم ہوجاتی ہے نیشنل کانفرنس عوامی مفادات کیلئے لڑنے سے کبھی بھی گزیر نہیں کریگی/ عمر عبداللہ

سرینگر/26اکتوبر/ایس این این// ہار جیت اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے، لیکن جب سب لوگوں نے ہاتھ اوپر کردیئے تھے تب نیشنل کانفرنس نے سپریم کورٹ میں دفعہ370کا کیس لڑا اور اس میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی۔ جس وقت ملک کے بہترین سے بہترین وکلاء نے نیشنل کانفرنس کی طرف سے جموں و کشمیر کے لوگوں کی آواز بلند کی تو وہ لوگ بھی ہمارے وکلاء کے ساتھ فوٹو کھنچوا کردفعہ370کی بحالی کی جدوجہد میں خود کو شریک کرنے لگے جو پہلے اپنی تقریروں میں کہتے تھے کہ دفعہ370قصہئ پارینہ ہے اور کبھی واپس نہیں آئے گا اور جن جماعتوں نے سپریم کورٹ میں ایک کاغذ کا ٹکڑا بھی جمع نہیں کیا تھا وہ بھی چیف جسٹس سے 2منٹ بولنے کی منت سماجت کرتے ہوئے دیکھے گئے۔سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق
ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے آج خطہ پیر پنچال کے سرنکوٹ میں پارٹی کے یک روز ورکرس کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جس طرح سے ہم نے سپریم کورٹ میں دفعہ370کی بحالی کی جدوجہد میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی، وہی جذبہ ہم آگے بھی برقرار رکھیں گے اور جہاں بھی ہمیں لڑنے کی ضرورت ہوگی ہم اپنے عوام کیلئے، یہاں کی شناخت کیلئے،عزت کیلئے،ترقی کیلئے اور روزگار کیلئے جدوجہد کرنے میں کوئی کثر باقی نہیں رکھیں گے۔ جموں وکشمیر میں الیکشن میں حکومتی لیت و لعل کی پالیسی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ نئی دلی والے کہتے ہیں کہ ہندوستان جمہوریت کی ماں ہے لیکن پتہ نہیں کہ جموں و کشمیر آتے آتے ہی ماں کی ممتا کو کیا ہوجاتاہے؟انہوں نے کہا کہ پچھلی بار یہاں 2014میں الیکشن ہوئے ہیں، تب سے لیکر آج تک9سال ہوگئے، سمجھ نہیں آرہا ہے جموں وکشمیر کو الیکشن سے کیوں محروم رکھا جارہاہے۔لوگوں کو اپنی حکومت چننے کا حق ہوتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جو بھاجپا والے سینا چوڑا کرکے چلتے ہیں اندر اندر سے یہ سہمے ہوئے ہیں اور عوام کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں ہے اور کرگل انتخابات کے نتائج کے بعد اس ڈر میں ضرور مزید اضافہ ہوگیا ہوگا۔ جموں وکشمیر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ لوگ ہر وقت یہاں کے عوام کو ستانے میں لگے ہوئے ہیں، عوام کو بجلی کے نام پر ستایا جارہاہے۔ پہلے میٹر لگائے گئے، پھر ڈیجیٹل میٹر لگائے گئے۔ابھی ڈیجیٹل میٹروں کو لگائے جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے کہ اب سمارٹ میٹر لگائے جارہے ہیں۔ اگر سمارٹ میٹر ہی لگانے تھے تو ڈیجیٹل میٹر کیوں لگائے گئے؟ اُن پر جو کروڑوں روپے خرچ ہوئے اُس کا حساب کون دے گا؟پانی کے فیس میں ہر سال اضافہ ہوتا ہے لیکن چاروں طرح پینے کے پانی کی ہاہاکار ہے۔ ہر طرف سڑکوں کی حالت خستہ ہے لیکن ٹول ٹیکس دینا لازمی ہے۔ بفلیاز سے سرنکوٹ سڑک کی کشادگی کا کام سالہاسال سے جاری ہے اور حکومت کی طرف سے اس کا کام مکمل کرنے میں کوئی سنجیدگی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔حکومت نے گذشتہ بروں سے جموں وکشمیر میں اگر کچھ کیا ہت تو وہ صرف ہر گلی میں شراب کی دکانیں کھولناہے۔ انتظامیہ میں کورپشن اس قدر سرائیت کر گیا ہے کہ اب کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ حکومت کے اپنے ہی سینئر افسر الزام لگا رہے ہیں کہ جموں وکشمیر میں ہزاروں کروڑ روپے کی دھاندلیاں ہورہی ہیں۔ لیکن افسوس اس بات ہے کہ ان الزامات کی تحقیقات نہیں کی جارہی ہے۔ عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ کیا ساری تحقیقاتی ایجنسیاں صرف سیاسی جماعتوں کو تنگ کرنے کیلئے ہیں؟کیا صرف اُن لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارنا باقی رہ گیا ہے جو بی جے پی کی مخالفت کرتے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر حکومت پر لگ رہے ہزاروں کروڑ کے گھوٹالوں کے معاملات کو قالین کے نیچے چھپایا جاتا ہے اور ہمارے حکمران خود کو دودھ کا دھلا جتلاتے پھر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا جیسا ایماندار کوئی نہیں اس لئے الزامات کی تحقیقات کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ این سی نائب صدر نے کہا کہ جموں وکشمیر حکومت صرف ایک محاذ پر ناکام نہیں، موجودہ نظام ہر ایک سطح پر ناکامی اور نااہلی کے ریکارڈ بنا رہاہے۔ آج سرکاری ملازمین کا حال دیکھئے، وہ اپنا جی پی فنڈ نکالنے سے قاصر ہے۔ جو سرکاری ملازمین یوٹی بننے پر خوش ہوگئے تھے وہ بھی آج اپنے بچوں کی شادیوں اور دیگر کاموں کیلئے جی پی فنڈ نکالنے کیلئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ڈیلی ویجروں کا حال بھی بے حال ہے، حکومت گذشتہ برسوں سے اس معاملے پر محض زبانی جمع خرچ سے ہی کام چلا رہی ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ میری حکومت کے دوران ڈیلی ویجروں کی مستقلی کا کام شروع کیا گیا تھا اور ہم نے تمام محکموں میں کام کررہے ڈیلی ویجروں کی تعداد پتہ کرنے کیلئے ایک سب کمیٹی تشکیل دی تھی، اس سب کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں 60ہزار کے قریب ڈیلی ویجروں کی نشاندہی کی تھی۔ہم طے کردیا کہ ہم ان ڈیلی ویجروں کو مستقل کرنے کا کام کریں گے، لیکن شائد اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں تھا، یہ کام کرنے سے پہلے ہی سیلاب آیا اور سیلاب کے ساتھ ہی ہم پر الیکشن تھوپا گیا۔تب سے لیکر آج تک یہ ڈیلی ویجر در در کی ٹھوکریں کھا ررہے ہیں۔ میں آج ڈیلی ویجروں کو یقین دلاتا ہوں کہ کبھی نہ کبھی جموں وکشمیرمیں الیکشن ضرور ہونگے اور جب کبھی بھی نیشنل کانفرنس کی حکومت آئے گی ہم ڈیلی ویجروں کو مستقل کرکے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں