0

منشیات کی بدعت کوزمین بوس کرنے کے لئے ڈرگ ڈی ایڈکشن سینٹروں سے باہرنکل کر عام انسان کوجانکاری کی ضرورت صحت مند باہوش قوم وجود عمل میں لانے کے لئے ہر انسان کو اپنارول اداکرنا ہوگا /مقررین

سرینگر/ 2نومبر/اے پی آئی منشیات نشیلی ادویات کی بدعت کو وادی کشمیر میں جڑسے اکھاڑپھینک دینے کے لئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات اٹھانے اور عوام انسان کواس کاحصہ بنانے کاعندیہ دیتے ہوئے سیول سوسائیٹی فور س اور یوتھ ڈیولپمنٹ کی جانب سے منعقدکئے گئے سیمنار میں خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ اب تک ڈرگ ڈ ایڈکشن سینٹروں کاقیام عمل میں لانے کی باتیں کی جاتی تھی اب اس مسئلے کوان سینٹروں سے باہرلے کر عام انسان تک منشیات کے مضراثرات فراہم کرے کی جانکاری کی ضرورت ہے۔اے پی آئی نیوز کے مطابق منشیات کی وباء کو وادی کشمیر سے نیست نابود کرنے کے لئے سیول سوسائیٹی فورم نے کرائم برانچ یوتھ ڈیولپمنٹ کے اشتراک سے سرینگر میں سیمنار کااہتمام کیاجسمیں مختلف مکتب ہائی فکرسے تعلق رکھنے والے افراد کوئی ائماء مساجد کومدعوکیاگیا تاکہ وہ ا س بدعت کے خاتمے کے لئے اپنارول اداکر سکے۔اس ضمن میں ماہرین نے منشیات کے استعمال سے ہونے والے نقصان کے بارے میں جانکاری فراہم کی اور مقررین نے کہااگر کسی قوم کوصف ہستی سے مٹاناہے یااس سے فالج زدہ بناناہے ا سکی سوچ کو ختم کرنا ہے تواس قوم کے نوجوانوں کومنشیات کاعادی بناؤ۔جب جوان نفسیاتی تناؤ اور ملک بیماریوں میں مبتلاہونگیں توایک نئی قوم پیداہونے کی امکانات تاریخ ہوجاتی ہے ان کی سوچ ختم ہو جاتی ہے ان کے ارادوں کوشنگ لگ جاتاہے ان کامستقبل قرب ناک اور مخدو ش ہوجاتاہے۔مقررین نے کہاا س وادی کشمیرجس سے جنت بے نظیرکہاجاتاہے کوکس کی نظرلگی یہ اناًفاناً! ایک ایسے دلدل میں پھنس گئے جسے اب باہرنکلنامشکل ہوتا دکھائی دے رہاہے اگربھر وقت ہرمکتب ہائی فکرسے تعلق رکھنے والے فرد نے اپنارول ادا نہیں کیاتوایک فالج زدہ قوم کے وجود میں آنے میں دیرنہیں لگے گی۔ایک ایسی قوم پیداہوگی جسے سوچنے ا ورسمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوگی جوچوروں ڈاکٹروں نقب زنوں پرمشتمل ہوگی۔مقررین نے وادی کشمیرمیں منشیات اور نشیلی ادویات کی بڑھتی ہوئی وباء پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے آج فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم میں زندہ رہناہے یااجتماعی طور پرایسی خود کشی کرنی ہے کہ ہماری داستان بھی کتابوں کے اوراق میں ملاکریگی۔مقررین نے کہاآج تک ہم ڈرگ ڈ ایڈکشن سینٹروں کاقیام عمل میں لانے کامطالبہ کرتے تھے اب ڈرگ ڈایڈکشنوں سینٹروں سے ا س وباء کے خاتمے کے لئے لوگوں کوجانکاری فراہم کرنے کی ضرور ت ہے استاد ہوامام ہو مزدور ہوصنعت کار ہو صحافی ہو وکیل سیاست دان حکمران ہر ایک انسان کواس وباء کے خلاف اپنارول اداکرنا ہوگا۔مقررین نے قانون نافزکرنے والے ادارے کوخبردارکرتے ہوئے کہا املاک ضبط کرنے گرفتاریاں عمل میں لانے کی جوکارروائیان شرو ع کی گئی ہے اسکی ہم سرہانہ کرتے ہے ا سکی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے مگر اصل مسئلہ ان مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالناہوگا جو اس زہرکوپھیلانے کے لیئے چھوٹی مچھلیوں کااستعمال کرتے ہیں سینٹروں سے باہرنکال کرعام انسان کواس میں شامل کرناہوگا کہ وہ منشیات کے خلاف ڈٹ جائے اور اپنے مسقبل کوبچانے کے لئے ا سکے خاتمے کویقینی بنائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں