0

مودی کے دورہ روس پر امریکہ میں تشویش، یوکرین میں امن کے لیے ہندوستان کی حمایت کی ضرورت

واشنگٹن/نئی دہلی، 10 جولائی : ہندوستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کے میل جول پر امریکہ کو تشویش ہے اور اس نے اپنے اس خدشات کو حکومت ہند کے ساتھ ‘ذاتی سطح پر بات چیت’ اور براہ راست بھی ظاہر کیا ہے۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے اس طرح کی تشویش مسٹر مودی کے دورہ ماسکو کے دوران بھی ظاہر کی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے مسٹر مودی کے منگل کو ختم ہوئے روس کے دورے اور اس دوران مسٹر مودی اور مسٹر پوتن کےگلے ملنے کے بارے میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا، “ہم روس کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کے بارے میں اپنے خدشات کے بارے میں بہت واضح ہیں۔ ہم نے اسے نجی طور پر اور براہ راست حکومت ہند کے ساتھ اٹھایا ہے اور ہم ایسا کرتے آرہے ہیں۔ اس حوالے سے ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
مسٹر ملر سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا امریکہ نے وزیر اعظم مودی کے 8-9 جولائی کو ماسکو کے دورے کے دوران اور مسٹر پوتن کے ساتھ گلے ملنے پر بھی اس طرح کی تشویش ظاہر کی ہے، تو ان کا جواب تھا، ’’ہماری ان سے (ہندوستان سے) گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران ان بھی بات چیت ہوئی ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ مجھے اس کے مواد کو نجی رکھنا چاہیے۔‘‘
اس سوال پر کہ ‘مودی-پوتن میل جول’ پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعتراض کیا ہے، تو کیا اس سے ہندوستان پر اعتماد اور اس کے ساتھ امریکہ کے اسٹریٹجک تعلقات پر کوئی اثر پڑے گا؟ مسٹر ملر نے کہا، “ٹھیک ہے، جیسا کہ میں نے کل کہا تھا، ہم ہندوستان سے درخواست کرتے رہے ہیں اور یہ درخواست آگے بھی کرتے رہیں گے کہ وہ یوکرین میں پائیدار اور منصفانہ امن اور اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کے لئے اقوام متحدہ کے اعلامیہ کے اصولوں کے مطابق، کی جانے والی کوششوں کو حمایت دے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے میں ہندوستان کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں