0

موسم خزاں کے زرد پتے غیر مقامی سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب

ڈل جھیل کے سامنے اور دیگر مقامات پر چنار کی خوبصورتی سے مسحور ہو کر سیاح خوشی سے جھوم اٹھے
سرینگر/05نومبر/ایس این این// وادی کشمیر میں خزاں کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی جموں اور کشمیر کے سیاحوں کا بھاری رش مغل باغات اور دیگر مقامات پر زرد پتوں کی خوبصورتی کی طرف مائل ہو رہے ہیں جبکہ چنار کا درخت ہے جو کشمیری ثقافت کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے بھی اس وقت ایک الگ ہی نظارہ پیش کرتا ہے۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق خزاں کا موسم شروع ہونے کے ساتھ ہی زرد پتے سیاحوں کے توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں کشمیر میں چناروں کا نظارہ مختلف رنگ دیتا ہے۔ گرمیوں میں، چنار کے درخت گہرے سرخ، پیلے اور عنبر کے رنگوں میں ملبوس ہوتے ہیں۔اس علاقے کے خوبصورت ماحول کو ہوا میں ٹھنڈک، دن بھر ہلکی دھوپ، ٹھنڈی صبح اور شام اور اس دوران چاروں طرف چنار کے جلتے ہوئے درختوں نے مزید بڑھایا ہے۔مغل باغات اس موسم میں سیاحوں کی پہلی پسند ہوتے ہیں کیونکہ یہ باغات چنار کے درختوں سے بھرے ہوتے ہیں۔کشمیر اپنے بدلتے موسموں کی وجہ سے پوری دنیا میں جانا اور پہچانا جاتا ہے، چاہے وہ سردی ہو یا گرمی، بہار ہو یا خزاں۔ یہاں کے تمام موسموں میں ایک الگ احساس اور بصری کشش ہے۔تاہم خزاں کے موسم میں گرے ہوئے چنار کے پتوں پر چلنا سیاحوں کے لیے ایک مختلف تجربہ ہے۔ممبئی سے تعلق رکھنے والی بوشا پٹیل کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس موسم میں کشمیر کا دورہ کرنے والی ممبئی سے تعلق رکھنے والی بوشا پٹیل کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’یہاں بات الگ ہے۔ ہم نے اب تک ایسے مناظر صرف فلموں میں ہی دیکھے ہیں۔ جرمنی سے پہلی بار کشمیر کا دورہ کرنے والے ایلکس نے کہا کہ جرمنی میں بھی کریلے کا موسم دیکھنے کا موقع ملتا ہے لیکن کشمیر میں اس موسم کو دیکھنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ڈل جھیل کے سامنے چنار کے درخت کی خوبصورتی سے مسحور ہو کر اس نے کہا کہ یہ جگہ ”حقیقت میں جنت“ہے۔”یہاں کا منظر کافی خوبصورت ہے۔ ڈل جھیل کے سامنے یہ خوبصورت چنار اور یہ سرسبز باغ، یہ واقعی جنت ہے۔چنار بے پھل درخت ہے لیکن اس کی لکڑی قیمتی ہے۔ شدید گرمی میں اس کا سایہ زندگی کو تازگی بخشتا ہے جب کہ شدید بارشوں میں یہ اپنے سائے میں بھیگنے نہیں دیتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں