0

موسم سرما کے آمد کے ساتھ ہی جنوبی کشمیر کے درجنوں علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی

شام ہوتے ہی ہر سو گھپ اندھےرا چھا جاتا ہے ، لوگوں مےں محکمہ بجلی کے خلاف شدےد غم و غصہ کی لہر

سرینگر ;6اکتوبر ; ایس این این ;موسم سرما کے آمد کے ساتھ ہی جنوبی کشمیر کے درجنوں علاقوں مےں بجلی کی آنکھ مچولی سے ہاہا کار مچی ہوئی ہے اور شام ہوتے ہی ہر سو گھپ اندھےرا چھا جاتا ہے جس سے لوگوں مےں محکمہ بجلی کے خلاف شدےد غم و غصہ پاےا جارہا ہے جبکہ حکومت اور محکمہ بجلی کی طرف سے اضافی بجلی حاصل کرنے کے داعووں کے برعکس بھی عوام کے مشکلات مےں روز افزوں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ جنوبی قصبہ پلوامہ سے ایس این این نمائندے نے صارفین کا بجلی کی ابتر صورتحال کے حوالے سے رو داد بےان کرتے ہوئے کہا کہ شام ہوتے ہی بجلی سپلائی کاٹ دی جاتی ہے ۔ نمائندے کے مطابق قصبہ کے درجنوں علاقوں ;242;مےں بجلی کی ابتر صورتحال نے لوگوں کو پرےشان کر کے رکھ دےا ہے ۔ نمائندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے صارفےن نے بتاےا کہ موسم خزاں شروع ہونے کے ساتھ ہی بجلی کی ابتر صورتحال نے کڑا رخ اختےار کےا ہے اور بار بار بجلی کی آنکھ مچولی سے سب سے زےادہ مشکلات طلباء کو اٹھانے پڑ رہے ہےں ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ باقاعدگی کے ساتھ بجلی فےس بھی ادا کر رہے ہےں لےکن اس کے باوجود صورتحال کو تبدےل نہےں کےا جاتا اور مقامی لوگوں کا کوئی پرسان حال نہےں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی ملازمےن صرف فےس حاصل کرنے کے وقت دکھائی دےتے ہےں اور بعد مےں غائب ہو جاتے ہےں جبکہ ہر سال کی طرح امسال بھی وادی مےں بجلی کا کوئی شےڈول نہےں ہے ۔ صارفےن نے کہا کہ چوری چھپے راتوں رات بجلی کے شےڈول تبدےل کئے جاتے ہےں اور اگرچہ مقامی روزناموں مےں بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہےں لےکن زمےنی سطح پر انہےں عملاےا نہےں جاتا ہے جس کے نتےجے مےں صارفےن بجلی سپلائی کی بار بار عدم دستےابی سے تنگ آکر اس نتےجے پر پہنچے ہےں کہ اس سے اچھا تھا کہ اگر بجلی ہوتی ہی نہےں ۔ ان کا کہنا تھا کہ دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کے باوجود بھی محکمہ کے افسران پر کوئی فرق نہےں پڑ رہا ہے اور صارفےن کے مشکلات مےں آئے روز اضافہ ہورہا ہے ۔ اس صورتحال پر عوامی حلقوں نے محکمہ بجلی کے خلاف شدےد غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر بجلی کی صورتحال مےں بہتری لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کےا ہے کہ اگرےہ صورتحال جاری رہی تو وادی کے طول و ارض مےں محکمہ کے خلاف احتجاجی مہم چھےڑ دی جاےءگی جس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ پی ڈی ڈی کے اعلیٰ حکام پر عائد ہوگی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں