0

نئے فوجداری قوانین پر دوبارہ سوچ بچار کرنے کی ضرورت: عمر عبداللہ

سری نگر،یکم جولائی :نئے فوجداری قوانین پر دوبارہ سوچ بچار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ڈر اس بات کا ہے کہ سب سے پہلے ان قوانین کا استعمال جموں وکشمیر کے لوگوں کے اوپر ہوتا ہے اور پھر جاکر ان کا اثر باقی ملک پر پڑتا ہے ۔
پارٹی ہیڈکوارٹر پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”ہم نے پہلے ہی ان قوانین سے متعلق خدشات کا اظہار کیاہے،ویسے تو کہا جاتا ہے کہ کوئی قانون اپنے آپ میں خراب نہیں ہوتا لیکن جس طرح سے اس کا استعمال کیا جاتا ہے اُس میں خرابی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ جو قوانین آج سے لاگو کئے گئے ہیں ان میں غلط استعمال کی جتنی گنجائش ہے وہ سابق قوانین میں نہیں تھی۔اور ہم نے عام طور پر دیکھا ہے کہ حکومت کو جب بھی موقعہ ملتا ہے تو قوانین کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ اس الیکشن کے بعد نئی حکومت بنتی اور ان قوانین پر دوبارہ سوچ بچار کرنے کا موقع ملتا، لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ اب جو یہ حکومت ہے وہ بی جے پی کی نہیں ہے، کیونکہ بی جے پی کو اعداد و شمار نہیں ملے ہیں، اُن کی اپنی اکثریت نہیں ہے اور موجودہ حکومت این ڈی اے کی ہے، ہم اُمید کریں گے کہ جو این ڈی اے کے ممبران ہیں، وہ دوبارہ ان قوانین پر سوچنے کا کام کریں گے۔ آخر کا یہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین ہیں، ان کو بدلایا جاسکتاہے۔“
اُن کا مزید کہنا تھا کہ سب سے پہلے ان قوانین کا استعمال جموں وکشمیر کے لوگوں کے اوپر ہوتا ہے، پھر جاکر ان کا اثر باقی ملک پر پڑتا ہے اور اسی بات کا ڈر ہے، آگے جاکر دیکھئے ہمیں خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ اسمبلی کے الیکشن ہونگے، نئی حکومت لوگوں کی ہوگی، اُس کے بعد دیکھا جائے گا ان قوانین کا استعمال کہاں پر ہوگا؟
انجینئر رشید کی حلف برداری سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ ”این آئی اے نے انہیں اجازت دےدی اور وہ لوک سبھا سپیکر کے کمرے میں حلف لیں گے، افسوس کی بات ہے بارہمولہ کے لوگوں کو اپنا نمائندہ ابھی نہیں ملے گا، حلف لینے کیلئے تو انہیں اجازت دی جائے گی لیکن بحیثیت نمائندہ وہ کام نہیں کر پائیں گے“۔

یو این آئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں