34

نئے کشمیر سے لوگ خوش نہیں ، لوگوں کے چہروں پر اداسی عیاں : غلام نبی آزاد

سرینگر /27اگست(یو این آئی) جموں وکشمیر پروگریسو آزاد پارٹی کے چیرمین غلام نبی آزاد نے اتوار کے روز کہاکہ نئے کشمیر سے لوگ خوش نہیں کیونکہ کسی جگہ ترقی نہیں ہو رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ ہونی چاہئے تاہم ایسا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔آزاد نے کہا کہ باغبانی اور زراعت کے شعبوں میں وسیع امکانات کو دیکھتے ہوئے، جموں و کشمیر میں ڈی پی اے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد پلوامہ کو ایک بڑے اقتصادی مرکز کے طور پر ترقی کو یقینی بنایاجائے گا۔ان باتوں کا اظہار موصوف نے پلوامہ میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے لوگ نئے کشمیر سے خوش نظر نہیں آر ہے ہیں کیونکہ کسی بھی جگہ ترقی نہیں ہو رہی۔ان کے مطابق لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ ہونی چاہئے تب جا کر کہا جاسکتا ہے کہ نئے کشمیر سے لوگ خوش نظر آر ہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ نئے کشمیر میں کسی جگہ ترقی نہیں ہو رہی ، لوگ انتظامیہ سے ناخوش نظر آر ہے ہیں۔ سری نگر جموں شاہراہ کی خستہ حالت پر بات کرتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہاکہ جب بھی فروٹ کو ملک کی مختلف ریاستوں کی اور لیجانے کا موقع آتا ہے تو بیوپاریوں کو مشکلات کا سامنا کرناپڑتاہے۔انہوں نے کہاہ قومی شاہراہ خستہ ہونے کی وجہ سے فروٹ سے لدی ٹرکوں کو ملک کی مختلف ریاستوں میں جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ سال میں چھ مہینے بند ہی ہوتا ہے۔ اور اس طرح سے فروٹ سڑ جاتا ہے۔آزاد نے کہا،پھلوں کی منڈیوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی، سیب کو ملک بھر کی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے تیز رفتار ٹرانسپورٹ سسٹم، قرض کی سہولیات اور پھلوں کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے وسیع مدد ملے گی“۔’پرانے کشمیر‘ پر اپنے عقیدے کی تعریف کرتے ہوئے جس نے 15سال پہلے جب وہ وزیر اعلیٰ تھے تو ہمہ جہت ترقی دیکھی، انہوں نے ’نئے کشمیر‘کے ماڈل پر افسوس کا اظہار کیا جہاں لڑکے اور لڑکیوں دونوں کی ریکارڈ بے روزگاری، بنیادی ڈھانچے کی خرابی اور معاشی جمود کی وجہ سے لوگ ناخوش ہیںاورجموں و کشمیر کے دیہی علاقوں میں غربت میں اضافہ ہوا ہے“۔عوام کی طرف سے تالیوں کی گونج کے درمیان آزاد نے کہا”خوشحال کشمیر“ کے میرے خیال میں گورننس کے ڈی پی اے پی ماڈل میں تعلیم یافتہ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے مساوی روزگار شامل ہے جو ملازمتوں، سڑکوں، بجلی، موبائل کنیکٹیویٹی اور مالی استحکام کی ضمانت بھی دے گا نیز ہنر مند اور غیر ہنر مند کارکنوں کی پوری صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے مواقع ملیں گے“۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ڈی پی اے پی کے منشور میں ناقص انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے ڈبل اور ٹرپل شفٹ شامل ہوں گے، آزاد نے کہا کہ پلوامہ اور شوپیاں دونوں اضلاع کو پھلوں کے موسم میں سیاحت کے لیے فروغ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا”سیاحتی مقامات جیسے شادی مرگ، گلشن مرگ اور دیگر خوبصورت مرغزاروں کو گلمرگ کے مساوی طور پر ترقی دی جائے گی اور اس کے لیے سیاحت سے متعلق بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جائے گا اور انہی اضلاع کے نوجوانوں کے لیے روزگار کی ضمانت دی جائے گی اور سکولوں اور اسپتالوں کو جلد از جلد اپ گریڈ کیا جائے گا“۔ملاوٹ شدہ کیڑے مار ادویات کی تقسیم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ،جس نے پھل کاشتکاروں پر تباہ کن اثر ڈالا، آزاد نے لوگوں کو چوکس رہنے کی تلقین کی اور اس صورتحال کا ہماچل پردیش سے موازنہ کیا جہاں حکومت کے پاس ملاوٹ شدہ کیڑے مار ادویات یا فنگسائڈ کے استعمال کو روکنے کے لیے ایک قابل ذکر کام ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں