388

وہ لوگ جو سب کچھ دیکر سب کچھ حاصل کرلیتے ہیں

وہ لوگ جو سب کچھ دیکر سب کچھ حاصل کرلیتے ہیں

اس جہان فانی میں نہ کوئی رہا ہے نہ کوئی رہے گا ۔جو آتا ہے جانے کے لئے ہی آتا ہے ۔ آکر ماں کی گود میں زندگی کی توانائی حاصل کرتا ہے ۔ پھر گود سے اتر کر اپنے پاوں پر چلنا سیکھ جاتا ہے ۔ دنیا کی ہر چیز کو حیرت کی نگاہوں سے دیکھتا ہے اور جب ہر چیز کو پہچان جاتا ہے تو ہر چیز سے کھیلنے لگتا ہے ۔ پاوں میں طاقت آتی ہے تو بچپن کو الواع کہہ کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے ۔زندگی کے اس موڑ پر انسان اپنا راستہ چن لیتا ہے ۔ کوئی علم کی روشنی سے منور ہوکر زندگی کو کچھ دینے کی کوشش میں مصروف ہوجاتا ہے ۔ کوئی فکر و نظر کی وادیوں میں کھوجاتا ہے ۔ کوئی لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہوجاتا ہے ۔ کوئی عیش وعشرت میں غرق ہوجاتا ہے ۔ کوئی چور ، کوئی ڈاکو ، کوئی لٹیرا ، کوئی جواری ، کوئی دولت مند ، کوئی پہلوان ، کوئی عہدیدار ، کوئی قاتل ، کوئی قوال ، کوئی باغی اور کوئی راہبر بن جاتا ہے ۔ کوئی کوئی ایسا ہوتا ہے جو بہت ہی کٹھن راہوں کو چنتا ہے اور آبلہ پا ان راہوں سے گزرتا ہے۔ ایسے لوگوں میں بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی منزل کو نہیں پاتے لیکن منزلیں ان کا پیچھا کرتی ہیں ۔ کئی لوگ تو اپنا سب کچھ کھودیتے ہیں لیکن سب کچھ کھوکر ان کے پاس ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ سکندر خالی ہاتھ دنیا سے گیا لیکن انسانی تاریخ کو ایک نیا عنوان دے کر گیا ۔ دنیا کی تاریخ اس کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے ۔ سکندر نے اپنی طاقت اور صلاحیت سے آدھی سے زیادہ دنیا فتح کی تھی ۔ لیکن ایسے بھی لوگ ہیں جو فتح کچھ بھی نہیں کرتے ۔ جوبھی ان کا اپنا ہوتا ہے وہ بھی دے ڈالتے ہیں ایسے ہی لوگ زندہ رہتے ہیں ہمیشہ کے لئے امر ہوجاتے ہیں ۔ وہ یادوں میں بستے ہیں اور مرکر بھی رہنمائی کرتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں