0

نیشنل کانفرنس پنچایت سے لیکرپارلیمنٹ الیکشن میں شرکت سے گریز نہیں کریگی اے بی اور سی ٹیموں کے لئے میدان کھلانہیں چھوڑدیگی /عمرعبداللہ

سرینگر/31/اکتوبر/اے پی آئی کسی بھی الیکشن میں شرکت کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ اور این سی کے نائب صدر نے اپنے اس موقف کو پھر دہرایا جموں وکشمیر کاسٹیٹ ہڈ جب تک بحال نہ کیاجائیگا تب تک ذاتی طور پروہ کسی الیکشن کاحصہ نہیں بنے گے تاہم این سی بی جے پی کی اے بی سی ٹیموں کے لئے میدان کھلانہیں چھوڑدیگی۔اے پی آ ئی نیوز کے مطابق عوامی رابطہ مہم جاری رکھتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے شمالی کشمیرکے سرحدی علاقے کرناہ میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ا س موقف کوپھردہرایاکہ نیشنل کانفرنس پنچایت سے لیکر پارلیمنٹ تک کے الیکشن میں بھرپورشرکت کریگی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی اے بی اور سی ٹیموں کے لئے میدان کھلانہیں چھوڑدیگی۔انہوں نے کہاکہ میں اپنے اس موقف پر قائم ہو کہ جب تک نہ جموں و کشمیر کاسٹیٹ ہڈ بحال ہوگاتب تک ذاتی طور رپرالیکشن کاحصہ نہیں بنوں گا لیکن اسکایہ مطلب نہیں کہ این سی کسی الیکشن کاحصہ نہیں بنے گی بلکہ پارٹی جمہوری اداروں کومضبوط کرنے لوگوں کی خدمت کرنے میں کوئی بھی کسرباقی نہیں چھوڑدیگی۔عوامی جلسے سے خطاب کے بعد زررائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگوکے دوران انہوں نے کہاکہ اطمنان بخش قرار نہیں دی جاسکتی ہے۔انہوں نے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پھر سے رونماء ہونے پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ جموں و کشمیر انتظامیہ بار بار دعویٰ کررہی ہے کہ حالات میں کافی بہتری آئی ہے جبکہ زمینی صورتحال کچھ اور ہے۔انہوں نے کہاکہ 370-35Aکے خاتمے کے بعد جموں و کشمیرکے عوام کوبہت سارے خواب دکھائے گئے۔تعمیروترقی کویقینی بنانے بیرو زگاری کے خاتمے بنیادی سہولیات کی فراہمی کے دعوے کئے گئے تاہم زمین پر کوئی بدلاؤ دکھائی نہیں دے رہاہے۔انہوں نے کہاکہ سیاحوں کی آمد کاہم خیرمقدم کرتے ہیں اور اگرحالات حکومت کے مطابق بہترہے توکیاں وجہ ہے کہ جموں کشمیرمیں اسمبلی بلدیاتی اور پنچایت الیکشن نہیں کرائے جاتے ہیں۔انڈیا اتحاد میں اختلافات کااعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پانچ ریاستوں کوالیکشن ہونے کے بعد انڈیااتحاد کی لیڈر شپ ملے گی اور اختلافات کودورکرنے کی کوشش ہوگی۔جمو ں وکشمیرکے حوالے سے ابھی تک اتحاد نے کوئی فیصلہ نہیں لیاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں