0

وادی میں غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا گزشتہ دس برسوں میں رواں برس بجلی کی صورتحال زیادہ ابتر ۔ صارفین

سرینگر;13اکتوبر;وی او آئی; شہر سرینگر سمیت وادی میں بجلی بریک ڈاءون کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ شام ہوتے ہیں ہر سو اندھیرا چھاجاتا ہے اور سڑکوں پر جیسے اُلو بولتے ہیں ۔ اس صورتحال پر لوگوں نے محکمہ پی ڈی ڈی کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دن بدن بجلی کٹوتی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ صارفین کا الزام ہے کہ رواں برس جو بجلی کی صورتحال دیکھی جارہی ہے گزشتہ دس برسوں میں نہیں دیکھی گئی ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں موسم سرماء شروع ہونے سے قبل ہی بجلی بریک ڈاءون شروع کیا گیا ہے اور شہر سرینگر سمیت دیگر قصبہ جات میں برقی رو نایا ب بنائی گئی ہے ۔ ایک گھنٹہ بجلی چالو رہنے کے بعد اگلے تین چار گھنٹوں تک بجلی بند رکھی جاتی ہے اور جس گھنٹے بجلی فراہم کی جاتے ہیں اس کی وولٹیج اس قدر قلیل ہوتی ہے کہ اس کی روشنی میں انسان پہنچاننا بھی دشوار بن جاتا ہے ۔ شہر سرینگر کے مختلف علاقوں جن میں رام باغ، کرسو راجباغ، ٹنکی پورہ، گاءو کدل اور دیگر علاقوں میں صبح و شام تین تین گھنٹوں بجلی بند رکھی جارہی ہے جبکہ دن میں بھی کئی گھنٹوں سپلائی کو منقطع رکھا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ شہر خاص کے رعناواری، خانیار، نوہٹہ، گوجوارہ اور دیگر علاقوں کے لوگوں نے بھی شکایت کی ہے کہ محکمہ بجلی نے بغیر اعلان کئے ہی کٹوتی شیڈول پر عمل کرنا شروع کیا ہے ۔ اس دوران پائین شہر جس میں صورہ ، بژرہ پورہ، احمد نگر، گلا ب باغ، حضرتبل، تیل بل، نشاط، برین ،وغیرہ علاقہ جات شامل ہیں بجلی کی نایابی سے لوگ پریشان ہیں ۔ وی او آئی کے نمائندوں نے دیگر قصبہ جات سے بھی اطلاع دی ہے کہ مختلف جگہوں پر بجلی بریک ڈاون سے لوگ پریشان ہوگئے ہیں ۔ سرحدی ضلع کپوارہ کے ترہگام ، کرالپورہ، ہائین ، زچلڈارہ، لولاب ، دیور، اور دیگر علاقوں میں بجلی نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ جبکہ ضلع بارہمولہ کے رفیع آباد، کاچہامہ،ڈھنگی وچھہ، ڈانگر پورہ، اور دیگر علاقوں کے لوگوں نے بھی اسی طرح کی شکایات کی ہیں ۔ جبکہ سوپور کے تارزو، زینہ گیر ، اور دیگر علاقوں میں بھی بجلی نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ اس دوران ضلع بڈگام میں بھی برقی رو کی عدم دستیابی کے خلاف لوگوں میں غم وغصہ پایا جارہا ہے ۔ جبکہ جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ، ضلع شوپیاں اور کوگام کے ساتھ ساتھ ضلع اننت ناگ میں بھی برقی رو کی کٹوتی شروع کی گئی ہے ۔ وادی میں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑہا ہے ۔ لوگوں نے محکمہ بجلی کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کہاں سے کہا ں پہنچ گئی ہے تاہم وادی کشمیر کا بجلی محکمہ ابھی بھی 30برس پہلے کی پوزیشن میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تیس برس پہلے بجلی کا جو حال تھا آج بھی اسی نہج پر ہے اور محکمہ نے آج تک اس میں کوئی ترقی نہیں کی جس کا خمیازہ لوگوں کو اُٹھانا پڑرہا ہے ۔ صارفین کا کہنا ہے کہ رواں برس جو بجلی کی صورتحال کا مشاہدہ کیا جارہا ہے گزشتہ دس برسوں میں اس طرح کی صورتحال نہیں دیکھی گئی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں