0

وادی میں مٹی کے تیل کی قلت پیدا کردی گئی ڈیلرصاحبان تیل کو مہنگے داموں بلیک میں کرتے ہیں فروخت

سرینگر /یکم نومبر/وی او آئی //ڈیلروں کی جانب سے مٹی کے تیل کو بلیک میں فروخت ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے صارفین نے کہا اس موسم میں مٹی کی مثنوعی قلت پیدا کرکے تیل کو جونری مل مالکان، سٹون کریشر مالکان اور غیر ریاستی باشندوں کو چوری چھپے فروخت کیا جارہا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق مٹی کے تیل کو صارفین میں تقسیم کرنے کے بجائے اس کو بلیک میں فروخت کیا جارہا ہے۔ جبکہ صارفین کو محکمہ فوڈ سپلائز اینڈ سیول ڈسٹربیوشن کی جانب سے فی ماہ تیل فراہم کرنے کی غرض سے تیل ڈیلروں کو لگاتار کوٹا فراہم کیا جاتا ہے تاہم ڈیلر حضرات صارفین کو مٹی کا تیل فراہم نہیں کررہے ہیں اور ہر ماہ کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر صارفین کے حق پر شب خون مارا جاتا ہے۔ اس ضمن میں سی این آئی کو معلوم ہوا ہے کہ مٹی کے تیل کی مثنوعی قلت پیدا کی گئی ہے جبکہ تیل کو جونری مل مالکان، سٹون کریشر مالکان کے علاوہ غیر ریاستی باشندوں کو 100سے 120روپے فی لیٹر فروخت کیا جاتا ہے۔ ادھر جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ نے نمائندے امان ملک نے اطلاع دی ہے کہ ضلع بھر میں موجود تمام مٹی کے تیل ڈیلرصارفین کو ہر ماہ تیل فراہم نہیں کرتے ہیں جبکہ ایک ماہ ایک لیٹر جبکہ دوسرے ماہ دولیٹر دیا جاتا ہے جبکہ اس رواں موسم میں صارفین کو تیل فراہم کیا ہی نہیں گیا۔ اس ضمن میں محکمہ فوڈ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اننت ناگ نے کہا ہے کہ صارفین کو حاصل حقوق کو صلب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور بلیک میں مٹی کا تیل فروخت کرنے والے ڈیلروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں