0

وادی کشمیرکے طول ارض میں غیر قانونی کان کنی کاسلسلہ عروج پر

ہوش کے ناخن نہیں لئے گئے تو اراضی فصلیں اُگانے سے محروم ہوگی/ماہرین
سرینگر/ 07نومبر/اے پی آئی غیر قانونی کا ن کنی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو مستقبل قریب میں وادی کشمیر میں سیراب کی جانے والی فصلیں پیدا نہیں ہونگی اور وادی کے لوگوں کو اپنی مروسی وراثت ہونے کے باوجود غذائی اجناس ملک کی مختلف ریاستوں سے خریدنے پر مجبور ہونا پڑیگا۔سرکاری اور پرائیویٹ سطح پرندی نالوں کی حفاظت کے سلسلے میں غیر سنجیدگی کامظاہراہ جاری۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق جس بڑے پیمانے پر کشمیر وادی میں غیر قانونی طور پر کان کنی شروع کی گئی ہے یہ سلسلہ مزید چند برسوں جاری رہا فصلوں کی پیداوار کے سلسلے میں وادی کشمیرکو خدا حافظ ہوگا۔ماہرین نے جواعداد شمار جمع کئے ہیں ان کے مطابق شمالی کشمیرمیں 30%ندی نالوں وسطی کشمیر میں 25%اور جنوبی کشمیرمیں 20%ندی نالوں کی ہیئت مکمل طور پرتبدیل ہوچکی ہے قابل کاشت اور آبی اول کی اراضی سے ندی نالے چشمے دریااور جھیل گہرے ہوتے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ بڑی تیزی کے ساتھ جاری ہے۔مائیننگ اینڈزولوجی فشرئیز محکموں کے علاوہ محکمہ مال جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے اگرچہ غیرقانونی کان کنی کوروکنے کی بھر پور کوشش ہورہی ہے تاہم سیلاب کے آگے کسی بھی طرح کی رکاوٹ اب کام نہیں کررہی ہے۔شمالی وسطی اور جنوبی کشمیرمیں غیر قانونی کان کنی کاسلسلہ عروج پرہے اور اس سلسلے کو کیلئے سرکار روکنے کی جو کوشش کررہی ہے وہ ناکام ثابت ہورہی ہے۔عام انسان اس چیز سے بے خبر ہے کہ ا سکے ساتھ کیاہورہاہے اس کے مستقبل کوکس طرح سے مخدوش بنایاجارہاہے اس سے لہلہاتے کھیتوں سے محروم کیاجارہاہے۔ایک طرف قابل کاشت اور آبی اول کی اراضی رہائشی کالنیوں دفتروں پرایؤیٹ اداروں کی عمارتوں کے لئے استعمال ہورہی ہے اور دوسری جانب فصل دینے والی اراضی کو سیراب کرنے کے امکانات تیزی کے ساتھ کم ہوتے جارہے ہیں۔ماہرین نے لوگوں پرزور دیاکہ وہ سنجیدگی کامظاہراہ کرے وہ گاڑیوں کے شور بڑے بڑے بازاروں کنکریٹ عمارتوں پرخوش ناہوجائے یہ ضرورت ہے لیکن ا سے زیادہ ضرورت ہمیں ماحولیات کاصاف ہونا چاہئے ہم فصلوں کی پیداوار میں خو دکفیل ہوجائے میں 24×7بجلی پانی دستیاب رہنا چا ہئے اگرہم نے اجتماعی طور پر ان باتوں کی طرف اپنی توجہ مبزو ل نہیں کی تو دنیامیں کشمیر قوم سب سے زیادہ غیرحساس اور غیرذمہ دارمانی جائے گی۔سدباب ابھی سے ہی کرنا ہوگا احمد کی ٹوپی محمد کے سر رکھنے کی کارروائیاں انجام نہیں دینی ہوگی ہرایک شخص اپنی جگہ پرذمہ دار ہے اور اگراب بھی اپنی ذمہ داریوں کااحساس نا کرے تو آ نے والی نسل ہمیں کس طرح سے ایسا کریگی اس کاتصور نہیں کیاجاسکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں