0

وادی کشمیرکے کئی اضلاع میں میڈیکل کالجوں کاقیام کے بعد علاج معالجہ پرسوالیہ نشان

ضلع اسپتالوں اور پرائمری اسپتالوں سے ہرسال پانچ ہزار مریضوں کوبڑے اسپتالوں کوریفر کرنے کاہوا انکشاف

سرینگر;22اکتوبر;اے پی آئی وادی کشمیر میں کئی میڈیکل کالجوں کاقیام عمل میں آنے کے باوجود ہرسال پچاس ہزار کے قریب مریضوں کوضلع اسپتالوں پرئمری ہیلتھ سینٹروں سے علاج کے لئے اسپتالوں کو منتقل کیاجاتاہے جسکی وجہ سے میڈیکل کالجوں کاقیام عمل میں لانے پرسوالیہ نشان لگ گیاہے ۔ طب کے ماہرین کامانناہے کہ نچلی سطح پر ڈاکٹرپیرامیڈیکل عملہ یاتو کام کرنے کے لئے سنجیدہ نہیں ہے یا ان کے پا س وہ سہولیات دستیاب نہیں کہ وہ مریضوں کا اعلاج کرسکے ۔ سرکار کو ا سکاسنجیدہ نوٹس لیناچاہئے ا و رحقائق منظرعام پرلائے جائے ۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق طب کے شعبہ میں جدید ت لانے اور علاج کی بہتر سہولیت فراہم کرنے کے ضمن میں اگرچہ سرکار نے انقلابی نوعیت کے اقدامات اٹھانے کی کارروائی شروع کردی ہے تاہم اس بات کا انکشاف ہو اکہ اسپتالوں پرائمری ہیلتھ سینٹروں سے ہرسال پچا ہزارکے قریب مریضوں کوعلاج کےلئے سرینگر کے بڑ ے اسپتالوں کوریفر کیاجاتاہے اگرچہ 2017-18 میں مریضوں کوریفر کرنے پرپابندی عائدکرنے کافیصلہ کیاگیا تھا ایک کمیٹی کاقیام عمل میں لایاگیاتھا تاہم حکومت کے گر جانے کے بعد پابندی کاغذوں تک محدورہ گئی جموں و کشمیرانتظامی کونسل نے پچھلے تین برسوں سے تین اضلاع کپوارہ، بارہمولہ اور اننت ناگ میں تین نئے میڈیکل کالجوں کاقیام عمل میں لایا اور عوامی حلقوں کایہ مانناہے کہ جوسہولیت میڈیکل کالج سرینگر کودستیاب ہے وہ دوسرے میڈیکل کالجوں کے پا س نہیں ہے ۔ کیانئے قائم کئے گئے میڈیکل کالجوں میں نئے ڈاکٹریاتربیت یافتہ پیرامیڈیکل عملہ نہیں ہے جوسرینگر میں ہے اگراس طرح کی کوئی صورتحال ہے یا افرادی قوت کی کمی ہے تو پھرسرکارنے نئے میڈیک کالجوں کاقیام عمل میں کیوں لایا اگریہ نہیں ہے مشینیں بھی ہے عملہ بھی ہے سہولیات بھی ہے توپھرکیاوجہ ہے کہ دس بیماروں میں سے تین کو ریفرکیاجاتاہے سات میں سے دوکا سرکاری اسپتالوں میں نچلی سطح پرعلاج ہورہاہے پانچ مریض پرائیوٹ کلنکوں کارخ کرنے پرمجبور ہورہے ہیں ۔ طب کے ماہرین نے اس بات پرتشویش کا اظہارکیاہ ہے80%آبادی قصبوں اور دیہات میں آباد ہے اور اگران علاقوں میں بہترسہولیا ت دستیاب نہ ہو تو کیا ان علاقوں میں مریضوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑتونہیں کیاجاتا ۔ ماہرین کے مطابق کیایہ حقیقت ہے کہ ماہرڈاکٹرا ورتربیت یافتہ پیرامیڈیکل عملہ قصبوں اور دیہات میں اپنی خدمات انجام دینے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ سرکار کواس بات کاسنجیدہ نوٹس لیناچاہئے اگر نچلی سطح پرمیڈیکل کالجوں کاقیام عمل میں لایاگئیے اسپتالوں کوہرطرح کی سہولیات فراہم کی جاتی ہے اور ا سکے باوجود اگر د س میں سے پانچ مریضوں کو ریفرکیاجائے دو کاسرکاری اسپتالوں میں علاج ہواو رتین پرائیویٹ کلنکوں پرجانے کے لئے مجبور ہو تواس سلسلے کوکیسے روکاجائے ۔ طب کے ماہرین نے کہاکہ یہ حقیقت ہے کہ محکمہ صحت کئی معاملات میں غیرسنجیدگی کا مظاہراہ کررہاہے او ریہ بھی حقیقت ہے کہ ضلع اسپتالوں پرائمری ہیلتھ سینٹروں میں ماہرڈاکٹروں کی کمی ہے اور وہ سہولیات بھی دستیاب نہیں کہ کئی نازک مریضوں کا ان شفاخانوں میں علاج ہو ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں