0

وادی کشمیر سے این ٹی اے امتحانی مراکز بیرون وادی منتقل کئے جانے کا منصوبہ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے خدشات ظاہر کرتے ہوئے ایل جی انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کی

سرینگر/26ستمبر //جموں کشمیر پرائیویٹ سکولز ایسویس ایشن نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ وادی کشمیر سے تمام نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے ) کے امتحانی مراکز کو مبینہ طور پر وادی سے باہر منتقل کیا جارہا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگلے برس یعنی 2024کے امتحانات کےلئے ان مراکز کو منتقل کرنے سے یہاں کے طلبہ کو شدید پریشانی ہوگی ۔ایسوسی ایشن نے ایک سرکاری بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح سے یہاں سے امتحانی مراکز کو وادی سے باہر منتقل کرنے سے کشمیری طلبہ کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگا اور سرکار کو اس میں کوئی فائدہ نہیں پہنچنے والا ۔ پی ایس اے جے کے ترجمان نے مزید بتایا ہے کہ گزشتہ برس کشمیری طلبہ کی ایک بڑی تعدادکو CUETامتحانات کےلئے جموں کشمیر سے باہر جانا پڑا تھا جس کی وجہ سے ایسے طلبہ نے ان امتحانات میں شرکت نہیں کی جو متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ اس معاملے میں جب سو ل سوسائٹی،سیاسی تنظیموں اور دیگر انجمنوںنے ایل جی انتظامیہ سے بار بار اپیل کی تھی تو اس معاملے میں نرمی لائی گئی تھی ۔ بیان میں ایسوسی ایشن نے کہا کہ اُس وقت یہ سوچاگیاکہ اب سرکار اس طرح کاکوئی حربہ نہیںآزمائے گی جس سے کشمیری طلبہ کو پریشانی ہوگی تاہم آج پھر ایک بار کشمیری طالب علموں کو ذہنی کوفت کا شکار بنایا جارہا ہے اور اب عارضی مراکز بھی چھین لیے جا رہے ہیں جس سے طلباءاور ان کے والدین میں تذبذب پایا جارہا ہے۔ ایسوسی ایشن کے ترجمان نے بتایا کہ اگر اگلے برس تک کشمیر وادی میں کوئی مستقل امتحانی مرز قائم نہیں کیا جائے گا تو دور دراز علاقوں کے رہنے والے کہاںجائیں گے اور ان کے مستقبل کا کیا ہوگا؟پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے سرکار کو خبردار کیا ہے کہ اگر اگلے سال کے امتحانات کےلئے کشمیر میں مستقل امتحانی مراکز قائم نہیں کیئے جائیں گے تو جو بعد میں بحران پیدا ہونے کا امکان ہے اس کےلئے سرکار ہی ذمہ دار ہوگی ۔ ایسوسی ایشن نے اس ضمن میں جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا ، چیف سیکریٹری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور وادی سے این ٹی اے مراکز کی منتقلی کو روکیں ۔انہوں نے ایل جی پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ کشمیر میں مستقل امتحانی مراکز کے قیام کے لیے ہدایات جاری کریں تاکہ طلبہ کو مزید پریشانی سے بچایا جا سکے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر طرف سرکار کشمیری طلبہ کو ہر معاملے میںراحت کا یقین دلاتی ہے تو دوسری طرف ایسے حربے اپنائے جاتے ہیں جن سے طلبہ پریشان ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں