0

وادی کے طول ارض میں بجلی بحران شدت اختیار کرگیا میٹراور بغیر میٹروالے علاقوں میں صورتحال یکساں دیہات میں بجلی کانام ونشان نہیں

سرینگر/31/اکتوبر/اے پی آئی بجلی بحران جاری سمارٹ میٹر نصب کرنے کے باوجود اضافی بجلی بلیں صارفین کوتھمنے کاسلسلہ جاری۔ کٹوتی میں کمی ہونے کے امکانات محدود اضافی بجلی خریدنے کے لئے فی الحال پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن تیار نہیں۔اے پی آ ئی نیوز کے مطابق وادی کے طول ارض میں بجلی بحران نے سنگین رُخ اختیار کیاہے۔شہروں قصبوں میں پاو ڈیولپمنٹ کارپوریشن چالیس سے پچاس فیصد کٹوتی کے پروگرام پرعملدرآمدکررہاہے تاہم80%دیہات میں کارپوریشن کی جانب سے قوائدوضوابط کی دھجیاں اڑا ئی جارہی ہے۔بغیرمیٹروالے علاقوں میں سورج غروب ہونے کے بعد ایک آدھے گھنٹے کے لئے برقی رو بحال توکی جاتی ہے مگر اسے منقطع کرنے کے بعد دوبارہ بحال کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی جاتی اور ایسے میں لوگوں کوبارہ گھنٹے دوبارہ بجلی بحال ہونے کاانتظارکرناپڑتاہے۔ میٹروالے علاقوں میں چار سے چھ گھنٹے کی کٹوتی آٹھ سے نوگھنٹوں میں تبدیل ہورہی ہے او رجب پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذمہ داروں سے دریافت کیاجاتاہے تو نی دلیل ہوا کرتی ہے کہ گرڈ اسٹیشنوں کو آور لوڈ ہونے کے باعث بجلی منقطع کی جاتی ہے کروڑوں روپے مالیت کے ٹرانسفارمروں کونقصان نہیں پہنچایاجاتاہے۔رسیونگ اسٹیشن اضافی بوجھ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔کارپویشن کے ذمہ داروں کایہ بھی کہناہے کہ بجلی کا ناجائز استعمال ہورہاہے جسکی وجہ سے رسیونگ او رگرڈ اسٹیشنوں کو نقصان ہونے کااحتمال باقی رہتاہے اس لئے پاور منقطع کیاجاتاہے۔صارفین نے اس بات کی عکاسی کی ہے کہ اضافی بجلی بلیں صارفین کوتھمانے کاسلسلہ اب بھی جاری ہے او رجن علاقوں میں سمارٹ میٹرنصب کئے گئے ہے وہ صارفین حدسے زیادہ پریشانیوں کاسامناکرتے ہیں۔ انہیں جس طرح سے بجلی فیس دکھایاجارہاہے وہ ان کی قو ائدادائیگی سے کئی باہر ہے پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے جو نمبر فراہم کئے گئے تاکہ صارفین ٹول فری نمبروں پراپنی شکایت کاازالہ کرا سکے وہ بھی کام نہیں کررہے ہے جسکے نتیجے میں صارفین اپنی شکایتوں کاازالہ نہیں کر پارہے ہیں۔صارفین کے مطابق میٹراو ربغیرمیٹر نصب کرنے والے علاقوں کی صورتحال ایک ہی بنی ہوئی ہے بغیرمیٹروالے علاقوں میں جسطرح بجلی فراہم کی جاتی ہے وہی صورتحال میٹروالے علاقوں میں بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں