0

وراٹ، روہت کے بعد جڈیجہ نے بھی ٹی 20 سے ریٹائرمنٹ لیا

ا
باربڈوس 30 جون : ہندوستان کو دوسرے ٹی 20 ورلڈ کپ کا خطاب دلانے والے ٹیم کے کپتان روہت شرما اور رن مشین وراٹ کوہلی کے بعد آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ نے بھی بین الاقوامی ٹی 20 سے ریٹائرمنٹ لے لیا ہے۔

جڈیجہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے ٹی 20 کو ‘الوداع’ کہا۔ انہوں نے لکھا، “اپنے پورے دل سے (آپ سب کا) شکریہ ادا کرتے ہوئے میں ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ کو الوداع کہتا ہوں۔ ایک ثابت قدم گھوڑے کی طرح جو پورے فخر کے ساتھ سرپٹ دوڑ رہا ہے، میں نے ہمیشہ اپنے ملک کے لیے اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور دوسرے فارمیٹس میں بھی ایسا کرتا رہوں گا۔ بہت ساری یادوں، حوصلہ افزائی اور آپ کی حمایت کے لیے دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکریہ۔”

جڈیجہ نے 74 ٹی 20 انٹرنیشنل میچوں کے بعد ریٹائرمنٹ لے لیا۔ ہفتہ کو ختم ہونے والے ورلڈ کپ کی پانچ اننگز میں انہوں نے صرف 22 گیندوں کا سامنا کیا اور 35 رن بنائے۔ اس کے علاوہ بولنگ میں انہوں نے 14 اووروں میں 7.57 کے اکانومی ریٹ سے ایک وکٹ حاصل کیا۔ تمام ٹی 20 میچوں میں جڈیجہ نے 127.16 کی اکانومی سے مجموعی طور پر 515 رن بنائے اور 7.13 کی اکانومی سے 54 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ ٹیسٹ اور ون ڈے فارمیٹس میں کھیلنا جاری رکھیں گے۔ وہ دنیا کے بہترین آل راؤنڈ فیلڈروں میں سے ایک ہیں۔

ورلڈ کپ فائنل جیتنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے روہت نے کہا، ‘یہ میرا آخری ٹی 20 میچ بھی تھا۔ اس فارمیٹ کو الوداع کہنے کے لیے اس سے بہتر کوئی لمحہ نہیں۔ میں نے ہر لمحے کا لطف اٹھایا ہے۔ میرا کیریئر خود اس فارمیٹ سے شروع ہوا۔ میں صرف یہ کپ جیتنا چاہتا تھا۔

انہوں نے کہا”میں واقعی یہ کپ جیتنا چاہتا تھا” ۔ اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ یہ میرے لیے بہت جذباتی لمحہ ہے۔ میں واقعی میں اپنے کیریئر میں یہ خطاب چاہتا تھا۔ “مجھے خوشی ہے کہ ہم نے لائن کو عبور کیا۔”

اپنے ٹی -20 کیریئر میں روہت نے 159 میچوں میں 32.05 کی اوسط سے پانچ سنچریاں، 32 نصف سنچریاں اور 140.89 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 4231 رن بنائے ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں دو آئی سی سی ٹورنامنٹ جیتے ہیں۔ اس سے قبل وہ 2007 کا تی-20 ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کا حصہ تھے اور اس بار انہوں نے بطور کپتان یہ اعزاز حاصل کیا۔

اس سے کچھ دیر قبل وراٹ کوہلی نے بھی پریس کانفرنس کے دوران ٹی ٹوئنٹی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان کا آخری ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہے۔

ہندوستان نے ہفتہ کو یہاں آئی سی سی ٹی -20 ورلڈ کپ کے سنسنی خیز فائنل میں جنوبی افریقہ کو سات رن سے شکست دے دی۔ کوہلی نے اس اہم میچ میں 76 رن کا حصہ ڈالا جو بالآخر ٹیم کی جیت کا عنصر بنا۔ ورلڈ کپ جیتنے کے بعد جذباتی وراٹ نے کہا، ’’یہ میرا آخری ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ تھا۔ میں اس سے پہلے چھ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیل چکا ہوں۔ اب وقت آگیا ہے کہ نئے ٹیلنٹ کو موقع ملے۔ میں نے کھیل سے بہت لطف اٹھایا اور یہ لمحہ میری زندگی کے لیے یادگار رہے گا۔

انہوں نے کہا، “ٹیم کا ہر رکن اس جیت کا برابر کا حقدار ہے۔ سب نے شاندار کھیلا جس کی وجہ سے ہندوستان یہ ورلڈ کپ جیت سکا۔

فتح کے بعد کپتان روہت شرما اور وراٹ کوہلی ایک دوسرے سے گلے ملے اور رو پڑے۔ ہاردک پانڈیا، سوریہ کمار یادو، رشبھ پنت سمیت ہر ہندوستانی کھلاڑی کی آنکھوں میں آنسو تھے لیکن یہ خوشی کے آنسو تھے۔ ہندستانی ٹیم کے سابق گیندباز عرفان پٹھان بھی کمنٹری باکس میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔ انہوں نے کہا کہ روہت کی ٹیم نے کمال کردکھایا۔ وہ اس ٹیم کا ہمیشہ شکر گزار رہیں گے جس نے ان کا خواب پورا کیا۔

یو این آئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں