0

وزیراعظم آواس یوجنا سکیم سے کئی مستحق کنبے محروم

محکمہ کی جانب سے منظوری ملنے کے باوجود بھی گھر تعمیر نہیں ہوئے

سرینگر;10اکتوبر;وی او آئی ;;وزیر اعظم آواس یوجنا کے تحت غریب کنبوں کےلئے جو گھر بنانے کی سکیم چل رہی ہیں اس میں مستحق افراد کو نظر انداز کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ کئی معاملات سامنے آئے ہیں جن میں یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اس سکیم کا فائدہ منظور نظر کنبوں کو ہی مل رہا ہے جبکہ غریب اور مستحق افراد کو دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وزیراعظم آواس یوجنا سکیم شروع کرتے وقت وزیر اعظم نریندر مودی نے اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ ہر مستحق کنبے کو اپنا گھر بنانے کےلئے سرکاری طور پر امداد فراہم کی جائے گی اور اس کےلئے انہوں نے متعلقہ وزارت کو بھی اس بات کا پابند بنایا تھا کہ وہ ایسے کنبوں کی جانچ پڑتال میں قریبی نظر رکھیں ۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرف جموں کشمیر خاص کر وادی کشمیر میں بھی اس سکیم کا اطلاق ہوا اور یہاں پر بھی غریب کنبوں کو اپنے آشیانے تیار کرنے کےلئے امداد فراہم کرنے کےلئے اقدامات اُٹھائے گئے تاہم اس میں زیادہ تر ایسے منظور نظر کنبوں کو ہی رقومات فراہم کی گئیں ۔ وادی کشمیر میں درجنوں ایسے کنبے ہیں جو اس سکیم کے مستحق تو ہیں لیکن انہیں کوئی معاوضہ نہیں ملا حالانکہ انہوں نے تمام لوازمات بھی پورے کئے ہیں ۔ اسی طرح ایک کنبہ محرا ج لدین خان ولد غلام محمد خان ساکن خان محلہ زری محلہ رعناوری کا ہے جس نے اگرچہ تمام لوازمات پورے تو کئے ہیں انہیں کوئی معاوضہ فراہم نہیں کیا گیا ۔ محراج لدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہاوسنگ ڈیپارٹمنٹ بمنہ میں اس ضمن میں فارم داخل کیا اور متعلقہ پٹواری نے یہاں آکر خود مشاہدہ کرکے اپنی رپورٹ پیش کی جبکہ دیگر تمام لوازمات بھی پورے کئے انہوں نے بتایا کہ میرا کیس مکمل ہونے کے بعد بتایا گیا کہ اب کچھ ہی روز میں آپ کو پیسے ملیں گے لیکن آج تب سے قریب تین چار سال گزر گئے لیکن ابھی تک انہیں کوئی پیسہ نہیں ملا صرف آج کل کرکے ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے ۔ انہوں نے اس ضمن میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، چیف سیکریٹری ارون کمار مہتا اور ڈی سی سرینگر سے ذاتی مداخلت کی اپیل ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں