0

وزیراعظم مودی نے لیا سلسلہ وار دہشت گردانہ حملوں کے بعد جموں و کشمیر کی تازہ سیکورٹی صورتحال کا جائزہ

سیکورٹی فورسز کی تعیناتی اورانسداد دہشت گردی کارروائیوں کااحاطہ
امت شاہ اور لیفٹنٹ گورنر منوج سنہاکیساتھ تبادلہ خیال،انسداددہشت گردی مہم کو وسیع العمل بنانے کی ہدایت
سری نگر:۳۱،جون :جے کے این ایس : وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو جموں خطہ میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے پس منظر میں جموں و کشمیر کی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔ وزیر اعظم کو جموں و کشمیر میں سیکورٹی سے متعلق صورتحال کا مکمل جائزہ پیش کیا گیا،اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق وزیراعظم مودی کی زیر صدارت سیکورٹی جائزہ اجلا س میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت کمار ڈوﺅل ،مرکزی داخلہ سیکرٹری اور مرکزی وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کو جموں و کشمیر میں سیکورٹی سے متعلق صورتحال کا مکمل جائزہ پیش کیا گیا،اور انہیں دہشت گردی کے حملوں کے بعد خطے میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم مودی نے سیکورٹی حکام سے کہا کہ وہ انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں کے مکمل سپیکٹرم یعنی وسیع العمل بنائیں اورسیکورٹی فورسزکو تعینات کریں۔اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نے وزیر داخلہ امت شاہ سے بھی بات کی اور سیکورٹی فورسز کی تعیناتی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے جموں وکشمیر منوج سنہا سے بھی بات کی اور جموں و کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اطلاعات کے مطابق، وزیراعظم کو مقامی انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔قابل ذکر ہے کہ جموں خطے کے کٹھوعہ، ریاسی، بھدرواہ اور ڈوڈہ میں پچھلے کچھ دنوں میں متعدد تصادم اور حملے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اس پورے خطے میں سیکورٹی کی سنگین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے 11 جون کو جموں میں ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ کی صدارت کی جس کے بعد سری نگر میں یونیفائیڈ ہیڈ کوارٹر کی میٹنگ ہوئی جس میں جموں میں غیر ملکی دہشت گردوں کے حملوں کے تازہ واقعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور انسدادی حکمت عملی کو حتمی شکل دی گئی۔ 12 جون کو کٹھوعہ میں ایک تصادم میں2غیر ملکی دہشت گرد اور ایک سی آر پی ایف اہلکار مارا گیا جہاں ایک شہری بھی گولی لگنے سے زخمی ہوا۔ اے ڈی جی پی جموں آنند جین کے مطابق، کٹھوعہ اور ریاسی کی پٹی میں جہاں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن جاری ہے، وہاں مزید دہشت گردوں کے موجود ہونے کا امکان ہے۔ضلع ریاسی میں اتوار کو ایک بس پر دہشت گردوں کے حملے میں اسوقت9غیرمقامی یاتری ہلاک اور33دیگرزخمی ہو گئے تھے،جب دہشت گردوں کی جانب سے ڈرائیور پر فائرنگ کے بعد بس ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی اور گہری کھائی میں جاگری۔منگل کو ہیرا نگر کے سیدا سکھل گاو ¿ں میں دہشت گردوں کی طرف سے راہگیروں پر فائرنگ کے بعد کٹھوعہ ضلع میں ایک تصادم میں ایک سی آر پی ایف اہلکار اور2 دہشت گرد مارے گئے۔بھدرواہ کے علاقے چترگلہ میں دہشت گردوں کی جانب سے فوج اور پولیس کے ایک مشترکہ چیک پوسٹ پر حملے کے نتیجے میں6 سیکورٹی اہلکارزخمی ہوگئے۔بھدرواہ کے گندوہ میں بدھ کو رات دیر ہوئے ایک اور انکاو ¿نٹر میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں