0

وزیر اعظم کا ’’ایک قوم ایک قانون ساز پلیٹ فارم‘‘ کا خواب 2024 میں پورا ہوگا: لوک سبھا اسپیکر

ممبئی کیمپ آفس، 28 جنوری (یو این آئی) 84 ویں آل انڈیا پریزائیڈنگ آفیسرز کانفرنس (اے آئی پی او سی ) کا آج اختتام ہوا، جس کا افتتاح کل یعنی 27 جنوری کو ہوا تھا۔
لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے اس موقع پر کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس دو روزہ کانفرنس کے دوران پریزائیڈنگ افسران نے جمہوری اداروں کو عوام سے جوڑنے اور انہیں مزید جوابدہ اور شفاف بنانے کے لیے ایکشن پلان پر تبادلہ خیال کیا۔ مسٹر برلا نے کہا کہ جمہوریت عوام کے بھروسے اور اعتماد پر چلتی ہے، اس لیے جمہوری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کام کرنے کے انداز میں ضروری تبدیلیاں لائیں اور اگر ضروری ہو تو قواعد میں ترمیم بھی کریں تاکہ ان اداروں پر عوام کا اعتماد بڑھے۔
قانون ساز اداروں کے بہترین طریقہ کار کا ذکر کرتے ہوئےمسٹر برلا نے مرکزی ، ریاستی اور نچلی سطح کے جمہوری اداروں کے درمیان مذاکرات کرنے کی تجویز کی تعریف کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے لوک سبھا کے ذریعہ منعقد کئے گئے آؤٹ ریچ پروگراموں کا حوالہ دیا اور تجویز پیش کی کہ ریاستی مقننہ کو بھی اسی طرح کے پروگرام منعقد کرنے چاہئیں۔
قانونا ساز اداروں کو زیادہ موثر اور کارآمد بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے ہوئے لوک سبھا کے اسپیکر نے کہا کہ لوک سبھا کو کچھ ریاستیقانون ساز اداروں سے ایک ماڈل آئی ٹی پالیسی بنانے اور ریاستی قانون ساز اداروں کے ساتھ اشتراک کرنے کے لیے تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس تجویز پر تفصیلی بحث کی جائے گی اور مناسب کارروائی کی جائے گی۔ اپنے ویڈیو خطاب میں قانون ساز اداروں کو پیپر لیس بنانے کے بارے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ لوک سبھا نے ڈیجیٹل پارلیمنٹ کے ذریعے اس سمت میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کا راستہ مستقبل کا راستہ ہے اور ہمیں جلد از جلد ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا ‘ایک قوم، ایک قانون ساز پلیٹ فارم’ کا خواب 2024 میں پورا ہو گا۔
قانون سازوں کے کام کاج میں نئی ​​ٹکنالوجیوں سے درپیش چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئےمسٹر برلا نے مختلف میڈیا اداروں کے ذریعے خارج کی گئی کارروائیوں کے ٹیلی کاسٹ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ایک گرے ایریا ہے اور اس سمت میں ایک ایکشن پلان کی ضرورت ہے۔ انہووں نے رائے دی کہ میڈیا بشمول سوشل میڈیا کو پارلیمانی کارروائی کے مستند ریکارڈ کی اطلاع دینی چاہیے۔
یہ بتاتے ہوئے کہ قانون ساز ادارے بلاتعطل بحث کے لیے پلیٹ فارم ہیں، مسٹر برلا نے زور دیا کہ مقننہ میں زیادہ بحث اور کم خلل ہونا چاہیے۔انہوں نے نے یہ بھی کہا کہ مقننہ کو زیادہ نتیجہ خیز طریقے سے کام کرنا چاہئے اور لوگوں کو متاثر کرنے والے مسائل پردلیل پر مبنی بات چیت کرنی چاہئے۔ انہوں نے پریزائیڈنگ افسران پر زور دیا کہ وہ ایسا ایکشن پلان اور لائحہ عمل مرتب کریں تاکہ قانون ساز اداروں کا وقت ضائع نہ ہو اور ایوان کے وقت کو عوامی فلاح و بہبود کے لیے بحث و مباحثے میں استعمال کیا جا سکے۔ مسٹر برلا نے زور دے کر کہا کہ جبری اور منصوبہ بند التوا کے واقعات اور رکاوٹوں کی وجہ سے پارلیمنٹ کا وقت ضائع ہونا جمہوریت کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے تشویشناک ہے۔ اس طرح کے واقعات سے ایوان کا وقار مجروح ہوتا ہے اور عوام میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے یہ بھی بتایا کہ مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر ایڈوکیٹ راہل نارویکر کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو انسداد انحراف قانون کا جائزہ لے گی۔
کمیٹی کے نظام کو مضبوط بنانے کے دوسرے ایجنڈے کے آئٹم کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹیاں پارلیمانی عمل کی جان ہوتی ہیں اور ان کی فعالیت کو بڑھا کر ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ وہ موثر حکمرانی اور ایگزیکٹو کی نگرانی کے لیے طاقتور آلہ بن جائیں۔
پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس کی تیاریوں کے بارے میں مسٹر برلا نے کہا کہ پارلیمنٹ کمپلیکس کی مضبوط اور فل پروف سیکورٹی کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی انتظامات کو احاطے کو لاحق خطرات اور ممبران کے وقار دونوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
نائب صدر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکڑنے اختتامی اجلاس کو خطاب کیا۔ راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین مسٹر ہری ونش ، مہاراشٹر کے گورنر رمیش بیس، مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر راہل نارویکر اور مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اختتامی اجلاس میں شرکت کی اور معززین سے خطاب کیا۔ اس کانفرنس میں 16 صدور سمیت 18 ریاستوں کے 26 پریزائیڈنگ افسران نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں