0

پشمینہ صرف ایک لفظ نہیں بلکہ جموں و کشمیر کی ثقافتی شناخت ہے جموں کشمیر انتظامیہ اس صنعت کو بحال کرنے کی پابند ; لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا

سرینگر;20اکتوبر;ایس این این ;پشمینہ صرف ایک لفظ نہیں ہے، بلکہ جموں و کشمیر کی ثقافتی شناخت ہے کی بات کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ اس صنعت کو بحال کرنے کی پابند ہے ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق پشمینہ ایکسپورٹر اینڈ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی طرف سے منعقدہ پشمینہ اور سوزنی بنکروں کو سالانہ دستکار ایوارڈ پیش کرنے کے بعد ایک تقریب سے خطاب کر تے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منو ج سنہا نے کہا کہ نہ صرف جموں کشمیر کیلئے بلکہ پوری دنیا کیلئے پشمینہ صرف ایک لفظ نہیں ہے، بلکہ ہماری ثقافتی شناخت ہے جسے ہمارے شاندار کاریگروں کی محنت سے امر کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر معمولی اور قیمتی مصنوعات نے صدیوں سے معیشت کو سہارا دینے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے ۔ اس نے قوم کی تعمیر میں بھی مدد کی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کو دنیا کا پشمینہ دارالحکومت کہا جاتا ہے ۔ سنہا نے کہا کہ اس شعبے کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے، لیکن انتظامیہ جموں و کشمیر میں پشمینہ صنعت کو بحال کرنے کی پابند ہے ۔ انہوں نے کہا’’انتظامیہ کاریگروں کی مدد کے لیے تربیت، تکنیکی، بنیادی ڈھانچہ اور مالی مدد فراہم کرنے سمیت ہر قدم اٹھائے گی‘‘ ۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پشمینہ بکریوں کے چرواہوں کو درپیش چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ اس کی وجہ سے پشمینہ بکریوں کیلئے ایک بحران ہے، لیکن انتظامیہ نے اس سمت میں بھی قدم اٹھایا ہے اور اس پر سائنسی خطوط پر کام کیا جا رہا ہے ۔ لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اس وقت تقریباً 3;46;5 لاکھ کاریگر ہینڈ لوم اور دستکاری کے محکمے میں رجسٹرڈ ہیں ۔ ان میں سے تقریباً 76000 کاریگر براہ راست پشمینہ سے اور 55000 قالین بْننے کے ہنر سے منسلک ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ اور بھی بہت سے لوگ رہ گئے ہیں ، باقیوں کو رجسٹر کرنے کے لیے ایک پروگرام شروع کیا گیا ہے تاکہ وہ سرکاری اسکیموں کا فائدہ حاصل کر سکیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں