0

پیروں،ولیوں، صوفیوں، صنعتوں کے کشمیر میں شرم حیا کی قباچاک جرائم او راخلاق سوزحرکتوں میں اضافہ

دس برسوں کے دوران71نوجوان بچوں کوڈرینوں ڈسٹبیوں اور سنسان جگہوں پرچھوڑدیا
سرینگر/ 04نومبر/اے پی آئی وادی کشمیر جسے کبھی صوفیوں،صنعتوں، پیروں، ولیوں کی سر زمین کہا جاتاتھا میں شرم حیا کی قبا چاک ہوئی انسانیت شرمسار ہورہی ہے اور جواطلاعات سامنے آ رہی ہے وہ رونگھٹے کھڑے کردینے والے برسوں کے دوران لواحقین نے سرکاری اسپتالوں کیڈسٹبینوں ڈرینوں اور سنسان جگہوں پر 71کے قریب نامولود بچوں کو ناپسندگی زندگی کی بناء پر چھوڑ دیا کئی بچوں کوگودلیاگیا کئی کو مختلف سینٹروں تک پہنچادیاگیا،جب کہ کئی بچوں کی مو ت بھی واقع ہوئی۔ سماجی طور پر اس طرح کے واقعات پرخاموشی اختیار کرنا انتہائی افسوسناک ہے اسے بزدلی کہے یاغیرحساسیت۔اے پی آئی نیوز کے مطابق کشمیروادی جواخلاق ادب انسانیت سے شرم و حیامیں ایک منفرد جگہ تصورکی جاتی تھی اور یہاں کے لوگوں کویہ امتیاز حاصل ہیں کہ وہ دنیامیں سب سے زیادہ مہمان نوازاور اخلاق پسند انسان ہیں نہ جانے کس کی نظربد اس وادی کشمیرکولگی کہ یہاں جرائم کی انتہاء اور اخلاقیت کاجنازہ نکل گیا۔جواطلاعات سامنے آ رہی ہیں وہ انسانیت کو شرمسار کرنے کے لئے کافی ہے۔2012سے 2023تک لل دید اور بچہ اسپتالوں سے 71کے قریب نوزائد بچوں کواپنے لواحقین نے ڈسٹبینوں ڈرینوں اور سنسان جگہوں پرپھینک دیا۔ اس طرح کے وقعا ت وادی کشمیرمیں رونماء ہونا شرم وحیا کے قباکوچاک کرنے کے مترادف ہے۔حق اطلاعات کے تحت جو جانکاری ملی ہے اس کے مطابق 2012-2023تک جو71نوزائد بچوں کو والدین نے اسلئے ڈسٹبینوں ڈرینوں یاسنسان جگہوں پرچھوڑدیا یا تووہ لڑکیاں تھی یاانہیں کوئی بیماری لاحق تھی آج جب ہم 21وی صدی میں بیٹی پڑھاؤ کادعویٰ کرتے ہیں ا سطرح کے واقعات رونماء ہوناہمارے لئے افسو ناک ہی نہیں بلکہ المیہ بھی ہے۔اجتماعی طور پر ایسے واقعات کی مخالفت یاتنقید نہیں ہورہی ہے شرم حیا کی قبااتنے بڑے پیمانے پرچاک ہوناافسوس ناک ہے۔صورتحال دن بدن بگڑتی جارہی ہے اورجواطلاعا ت موصول ہوئی ان کے مطابق سات بچوں کوگود لیاگیا بارہ کے قریب ایسے بچے زندگی کی جنگ ہار گئے اور باقی مانندہ ان نوزائدبچوں کومختلف سینٹروں کومنتقل کیاگیا جہاں ان کی پرورش ہوریہی ہے۔صورتحال یہاں ہی تھم نہیں جاتی ہے وادی کشمیرکاایک اور المیہ ہے کہ برم نے یہاں کے لوگوں کوانسانیت سے عاری کردیاہے۔ایک سروے رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ 19ہزار سے زیادہ ایسی دوشیزائیں ہیں جن کی عمر 49سال تجاوزکرگئی ان کی شادی نہیں ہوئی دولاکھ 75ہزار جوان ایسے ہیں جن کی عمر 35سال سے زیادہ ہے وہ بھی ازدواجی زندگی کے ساتھ منسلک نہیں ہوئیے ہیں اور وجہ جہیزذات پات بے روز گاری کے ہے جسکی وجہ سے یہ جوان لڑکے اورلڑکیاں پاک رشتے کے ساتھ منسلک نہیں ہوپارہے ہیں۔ وادی کشمیرمیں یہ ایک عجیب سی صورتحال ہے ہرایک شخص اپنے آپکوعقلمند مہذب دین دار تصورکرتا ہیں اور اپنی غلطیوں کااعطراف کرنے کے لئے جوان اپناروڈماڈل کسی ایسی شخصیت کوبنانے کے لئے تیار نہیں جس نے تاریخ میں اپنانام رقم کیاہو ااور کوئی لڑکی آپنے آپ کو ان خواتین کے ساتھ جوڑنانہیں چاہتی ہے۔ جنہوں نے تاریخ میں قوموں کوکچھ دیابھی ہے اور انہیں یاد بھی کیاجاتاہے۔اجتماعی طورپروادی کشمیرمیں جرائم سماجی بدعات کے خلاف لوگوں کی خاموشی حیران کن سطح تک بڑھ گئی اگراب بھی سنجیدہ لوگوں نے ا س صورتحال سے باہرنکلنے کی کوشش نہیں کی تووہ دن دور نہیں جب ہماری دستان بھی مٹے گی اور آنے والی نسل کو کتابوں میں وادی کشمیر کے بارے میں معلومات حاصل ہونگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں