0

کانگریس کے اقتدار کے وقت جموں کشمیر سے چھتیس گڑھ اور منی پور تک نکسلواد اور دہشت گردی پھیلی ہوئی تھی،وزیر اعظم کا چھتیس گڑھ میں عوامی ریلی سے خطاب

سرینگر/07نومبر/وی او آئی//وزیر اعظم نریندرمودی نے کانگریس پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب بھی مرکزمیں اس پارٹی کی حکومت ہوتی ہے تو اسکاہاتھ دہشت گردوں اور نکلسیوں پر ضرور ہوتا ہے۔ مودی نے بتایا کہ اگرہم جموں کشمیر سے لیکر چھتیس گڑھ اور منی پور کی بات کریں تو کانگریس کے دورمیں ہی ان راجیوں میں بندوق کا زور دیکھا گیا ہے۔ نریندر مودی نے بتایاکہ اس لئے کانگریس کو پولنگ بوتھوں سے ہٹانا ضرور ی ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو چھتیس گڑھ میں نکسل ازم پر قابو پانے میں ناکامی پر کانگریس پر تنقید کی اور کہا کہ جب بھی مرکز میں پارٹی اقتدار میں آتی ہے، نکسلیوں اور دہشت گردوں کو حوصلہ ملتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا ہے کہ کانگریس کے دور اقتدار میں جموں کشمیر سے لیکر منی پور اور چھتیس گڑھ میں نکسلواد اور دہشت گردی کا زور دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے جموں کشمیر کے حالات کا ذکرکرتے ہوئے بتایاکہ جب سے مرکزی میں ہماری حکومت آئی جموں کشمیر سے دہشت گردی کاخاتمہ ہوا ہے۔ چھتیس گڑھ کے سورج پور ضلع میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، مودی نے مبینہ مہادیو بیٹنگ ایپ گھوٹالہ پر وزیر اعلی بھوپیش بگھیل کو بھی نشانہ بنایا جس کا نعرہ تھا “30 لے کاکا، کھلے عام ستہ” (30 فیصد کمیشن حکومت، کھلے عام سٹے بازی چلا رہی ہے)۔بگھیل کو ریاست میں ‘کاکا’ (چاچا) کہا جاتا ہے۔ریاست میں کل 90 اسمبلی سیٹوں میں سے 20 پر پہلے مرحلے کے انتخابات کے لیے منگل کو ووٹنگ جاری تھی۔مودی نے کہا کہ کانگریس کے لیے آدیواسیوں کا ملک میں کوئی وجود نہیں ہے اور اس نے انہیں ان کی قسمت پر چھوڑ دیا ہے۔جب بھی ملک میں کانگریس اقتدار میں آتی ہے، دہشت گردوں اور نکسلیوں کو حوصلہ ملتا ہے۔ ادھر ُادھر سے بم دھماکوں اور قتل و غارت کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ کانگریس جہاں بھی اقتدار میں ہے، وہاں جرائم اور لوٹ مار کا راج ہے،“ وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس حکومت نکسل تشدد (چھتیس گڑھ میں) کے واقعات پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ حالیہ عرصے میں ہمارے (بی جے پی) پارٹی کارکنوں کو ہم سے چھین لیا گیا۔ کچھ دن پہلے ہمارے ساتھی (پارٹی رہنما) کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔انہوں نے بتایاکہ کیا آپ بموں اور بندوقوں کے سائے میں رہنا چاہتے ہیں؟ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کے پاس کتنے ہی پیسے ہیں، اگر آپ کا بیٹا شام کو گھر واپس نہیں آتا اور اس کی لاش پہنچ جاتی ہے تو اس رقم کی کیا ضرورت ہے، اس لیے سیکورٹی سب کے لیے اہم ہے اور ہر کونے اور پولنگ بوتھ سے کانگریس کو ہٹانا ضروری ہے۔مہادیو بیٹنگ ایپ کیس پر سی ایم بگھیل پر حملہ کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ انہوں نے ‘مہادیو’ کے نام پر ایک گھوٹالہ کیا اور اب یہ گھوٹالہ ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی زیر بحث ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب اس گھوٹالے کے سب سے بڑے ملزم نے ٹی وی پر کہا ہے کہ اس نے وزیراعلیٰ کو 500 کروڑ روپے رشوت دی ہے تو ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں