0

کشمیرکی میوہ صنعت پر طویل خشک سالی کی کاری ضرب

ژالہ باری ،ناسازگارموسم،خشک سالی اور اضافی اخراجات سے میوہ صنعت کونقصان:پھل کاشتکار
سری نگر ستمبر : ماہ جون کے وسط سے کم ترین بارشیں ہونے اور ماہ جولائی کے اوائل سے جاری مسلسل خشک سالی نے کشمیرکی میوہ صنعت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے ،کیونکہ بارشیں نہ ہونے اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے سیب سمیت کئی میوہ جات کے SIZEاور رنگت پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں ،اور بقول پھل کاشتکاروںکے اگر جلد بارش نہ ہوئی ،تو درختوں پر پکنے کے منتظر سیب کے مختلف اقسام بشمول امریکن اورڈلیشن کی پیداوار ضائع ہونے کااحتمال ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق جہاں وادی بھرمیں کسانوںنے دھان کی تیار فصل کاٹنے اورجمع کرنے کاعمل شروع کردیاہے ،وہیں باغبانی سے وابستہ یااس شعبے پر انحصار کرنے والے پھل کاشتکار سخت پریشان ہیں ،وہ اپنے میوہ باغات میں جاتے وقت باربار آسمان کی جانب نظرکرتے ہیں کہ کہیں برسنے والے بادل توموجودنہیں ۔شمالی کشمیر کے علاقہ سوپور جو میوہ صنعت کیلئے اہم ترین مرکزہے ،کے پھل کاشتکار اورمالکان باغات کاکہناہے کہ خشک سالی کے طول پکڑجانے سے کشمیرکی میوہ صنعت پر کاری ضرب لگنے کااندیشہ لاحق ہوا ہے ۔ایشیا کی دوسری بڑی میوہ منڈی(فروٹ منڈی سوپور) سے وابستہ مالکان باغات ،پھل کاشتکاروں اور تاجروں کی تنظیم کے صدر فیاض احمد ملک المعروف کاکہ جی کہتے ہیں کہ امسال شدیدژالہ باری سے پہلے ہی مختلف میوہ جات کو20سے30فیصد تک نقصان پہنچا۔انہوںنے کہاکہ میوہ دار درختوں پرموجود 50سے60فیصد سیب کے مختلف اقسام کی پیداوار ،معیار اور رنگت کا دارومدار موسمی صورتحال پر ہے ۔ فیاض احمد ملک المعروف کاکہ جی نے کہاکہ بارش نہ ہونے سے درختوں پر پکنے کے منتظر سیب کے مختلف اقسام کے دانوںکا سائز فروغ نہیں پارہاہے اور نہ سیب کے دانوں پررنگ چڑھ رہاہے ۔انہوںنے کہاکہ خشک سالی نے میوہ صنعت اوراسے جڑے باغ مالکان اور پھل تاجروں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے ۔رواں خشک وگرم موسمی صورتحال کو میوہ صنعت کے لئے ناموافق قرار دیتے ہوئے دی کشمیر فروٹ گروﺅرس اینڈڈیلرس فروٹ منڈی ایپل ٹاﺅن سوپور کے نومنتخب صدر فیاض احمد ملک نے کہاکہ کشمیرمیں لاکھوں لوگ بالواسطہ یابلاواسطہ طور پر میوہ صنعت سے جڑے ہوئے ہیں ،اوراگر ناموافق موسمی صورتحال جاری رہی ،تو لاکھوں لوگوںکی محنت اور اُمیدوں پر اللہ نہ کرے پانی پھر جائے گا۔فیاض ملک عرف کاکہ جی نے حکومت سے کشمیرمیں MISیعنی مارکیٹ میں مداخلت کی اسکیم دوبارہ لاگو کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اگر باغات میں ہی سیب کاCگریڈ مال 25روپے فی کلومیں خریدجائے ،تو مالکان باغات اور پھل کاشتکاروتاجر اس گریڈ کے سیبوںکی بھرائی اور ٹرانسپورٹریشن کے اضافی اخراجات سے بچ جائیں گے ۔انہوںنے کہاکہ کشمیرمیں کم وبیش3جوس فیکٹریاں موجود ہیں ،اور اگر حکومت مالکان باغات سے تیسرے درجے کے سیب خریدے گی ،تو حکومت کوکوئی نقصان نہیں ہوگا،جبکہ MISاسکیم پرعمل درآمد سے مالکان باغات اور پھل تاجر غیر ضروری اخراجات سے بچ جائیں گی ۔
جے کے این ایس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں