0

کشمیر میں لیوینڈر فصل میں غیر معمولی ترقی، کاشتکار خوش

سری نگر، 8 جولائی : وادی کشمیر میں امسال لیوینڈر کی فصل میں غیر معمولی ترقی سے ‘جامنی انقلاب’ زوروں پر ہے جو اس کاشتکاری سے وابستہ لوگوں کے لئے خوشی و شادمانی کا باعث ہے۔
جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ سے تعلق رکھنے والے مختار احمد وانی جو چک بدری ناتھ لیوینڈر فارم کے انچارج ہیں، نے یو این آئی کو بتایا: ‘فصل کو خشک موسمی صورتحال سے بچانے کے لئے زیادہ تر مقامات پر اس فصل کی کٹائی مقررہ وقت سے قبل ہی مکمل کر لی گئی’۔انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں تیار ہونے والے لیونڈر کی مانگ نہ صرف ملک بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں ہے۔
بتادیں کہ لیوینڈر، جس کی عمر 20 برس ہے، ایک خوشبو دار اور فائدہ مند پودا ہے اس سے تیل بھی حاصل کیا جاتا ہے جو کافی قیمتی ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ لیوینڈر تیل دنیا میں استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے کئی طبی فائدے بھی ہیں۔لیوینڈر کے پھول امرت سے بھرپور ہوتے ہیں اور شہد کی مکھیوں کو خاص طور اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ کاٹنے اور خشک ہونے کے بعد لیوینڈر ککے پھولوں کو خوشبودار خوشبو کی صنعت میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
موصوف انچارج نے کہا: ‘چک بدری ناتھ فارم کے 22 کنال اراضی پر امسال قریب19.6 کوئنٹل پھول حاصل کئے گئے جبکہ سال گذشتہ اس اراضی سے17.45 کوئنٹل پھول حاصل کئے گئے تھے’۔انہوں نے کہا کہ وادی میں دو ڈسٹلیشن پلانٹ قائم ہیں جن میں سے ایک الائو پورہ شوپیاں اور دوسرا سری نگر میں ہے جہاں تیل نکالنے کے لئے لیوینڈر کی پروسیسنگ کی جا رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ لیوینڈر کا تنا عام طور پر دو سال بعد اچھی فصل دیتا ہے اور یہ مکمل طور پر ایک نامیاتی پھول ہے تاہم زیادہ آبپاشی سے یہ فصل کو فنگل انفیکشن سے متاثر ہو جاتی ہے’۔انہوں نے ان کسانوں جن کی اونچائیوں پر زمین ہے، سے یہ فصل اگانے کی تاکید کی۔
مختار احمد نے کہا کہ محکمہ زراعت اس فصل کو تجارتی بنیادوں پر بڑھانے کے لئے کسانوں کی بھر پور مدد کر رہا ہے۔انہوں نے کہا: ‘لیوینڈر کی فصل ان میں فصلوں میں سے ایک ہے جس کی کافی کم دیکھ بھال کی جاتی ہے اور اس کی عمر کم سے کم 20 برس ہے’۔
ڈائریکٹر محکمہ زراعت چودھری محمد اقبال نے یو این آئی کو بتایا: ‘ہالسٹک ایگریکلچر ڈیولوپمنٹ پروگرام (ایچ اے ڈی پی) سے قبل وادی کشمیر میں قریب27.85 ہیکٹر اراضی لیوینڈر کی کاشت کے لئے استعمال کی جاتی تھی جبکہ سال 2023- 2024 کے دوران 98.64 ہیکٹر اراضی پر یہ فصل اگائی گئی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیر میں قریب126.50 ہیکٹر اراضی پر لیوینڈر کی فصل کاشت کی جاتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایچ اے ڈی پی سے قبل لیوینڈر بائیو ماس کی پیدا وار557 کوئینٹل تھی۔
موصوف ڈائریکٹر نے کہا کہ تین برسوں کے بعد لیوینڈر بائیو ماس کی متوقع پیدا وار 2 ہزار 5 سو 30 کوئینٹل تک پہنچ سکتی ہے جس سے 26 سو لیٹر تیل حاصل کئے جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس فصل سے سالانہ تین سے چار کروڑ روپیے کی آمدنی متوقع ہے۔
لیوینڈر کی پیدا وار کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ‘سال2021 -22 کے دوران سرہامہ لیوینڈر فارم پر 6.05 ہیکٹر اراضی سے66.50 کوئینٹل جامنی کے پھول حاصل کئے گئے جبکہ سال2022- 23 کے دوران 6.55 ہیکٹر اراضی سے 93.35 کوئینٹل اور7.55 ہیکٹر اراضی سے57.40 کوئینٹل فصل حاصل کی گئی’۔
موصوف ڈائریکٹر نے کہا کہ الائو پورہ شوپیاں کے ایس ایم فارم میں 1.75 ہیکٹر اراضی سے 43 کوئینٹل فصل بر آمد کی گئی۔انہوں نے کہا کہ سال2023 -24 کے دوران گاندر بل کے ماڈل فلوری کلچر سینٹر ننر میں 3.40 ہیکٹر اراضی سے 67 کوئینٹل فصل بر آمد کی گئی جو سال گذشتہ کی فصل سے 21 کوئینٹل زیادہ تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر لیوینڈر کی کاشت کے لئے ایک موزوں جگہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایک کنال اراضی سے ایک کوئینٹل جامنی بر آمد کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری طور پر اس تیل کے فی لیٹر کی قیمت 12 ہزار روپیے ہے۔
یو این آئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں