0

کشمیر میں کنٹرول لائن کے اس پار سے ملی ٹنسی کی حمایت اور اس کا فروغ دینے کیلئے منشیات آرہی ہیں ; دلباغ سنگھ

پنجاب اور کپواڑہ سے تعلق رکھنے والے 8افراد گرفتار ، ملی ٹنٹ تنظیموں سے رابطہ بھی سامنے آیا ، مزید گرفتاریاں متوقع

سرینگر ;12اکتوبر ایس این این ;منشیات کے بین ریاستی گروہ کی تحقیقات کے دوران کپواڑہ سے پنجاب کے لدھیانہ تک مضبوط روابط کا انکشاف ہوا ہے کی بات کرتے ہوئے جموں کشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا کہ اس گروہ میں ابھی تک 8افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جن میں سے چار کا تعلق کپواڑہ اور انتہائی مطلوب اسمگلر سمیت چار پنجاب کے رہائشی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ کشمیر میں کنٹرول لائن کے اس پار سے ملی ٹنسی کی حمایت اور اس کا فروغ دینے کیلئے منشیات آرہی ہیں اور اس گروہ میں تمام بڑی ملی ٹنٹ تنظیموں کے رابطے سامنے آئے ہیں ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں کشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا کہ کچھ دن پہلے بے نقاب کئے گئے ’’بین ریاستی نارکو ماڈیول ‘‘کے رابطے شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع سے لدھیانہ پنجاب تک پائے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے چار کپواڑہ اور چار پنجاب سے ہیں جبکہ 30 کلو کوکین، 5 کروڑ روپے نقد، گاڑیوں کی 40 جعلی نمبر پلیٹس، پاسپورٹ اور ایک جرمنی کا بنا ہوا ریوالور برآمد کیا گیا ہے ۔ دلباغ سنگھ نے کہا کہ رام بن پولیس نے حال ہی میں گاڑی کو روکا اور 30 کلو گرام کوکین نما مادہ برآمد کیا ۔ انہوں نے کہا ’’’’اگرچہ ایف ایس ایل کی حتمی رپورٹ کا انتظار ہے، ایسا لگتا ہے کہ برآمد شدہ مادہ کوکین ہے‘‘ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع سے چار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ جموں کشمیر پولیس سربراہ نے کہا ’’تحقیقات کے دوران، یہ پتہ چلا کہ بین ریاستی نارکو ماڈیول کے رابطے کپواڑہ ضلع سے جڑے ہوئے ہیں ۔ کپواڑہ کا امروہی منشیات کی اسمگلنگ کیلئے استعمال ہونے والا پسندیدہ راستہ ہے‘‘ ۔ انہوں نے کہا’’ تازہ کھیپ بھی اسی راستے سے اسمگل کی گئی ۔ ہم نے کپواڑہ کے امروہی علاقے میں منشیات کی دہشت گردی سے متعلق 12 مقدمات درج کیے ہیں ۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ڈرون سے گرائے جانے والے منشیات کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں ، لیکن ایسی مصدقہ لیڈس ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ منشیات کو جسمانی طور پر اسمگل کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کپواڑہ سے چار ملزمان کی گرفتاری کے بعد جموں و کشمیر پولیس نے پنجاب پولیس کے ساتھ مشترکہ آپریشن میں منشیات کے کلیدی ملزم سمیت چار مزید افراد کو گرفتار کیا ۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ گرفتار کلیدی ملزم کا والد بھی منشیات فروش تھا ۔ ہم نے گرفتار افراد سے 5 کروڑ روپے نقد، 40 جعلی نمبر پلیٹس، پاسپورٹ اور ایک جرمن ساختہ ریوالور برآمد کیا ہے ۔ نمبر پلیٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر ڈی جی پی نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ منشیات کی نقل و حمل کے دوران جو کپواڑہ سے پنجاب لے جایا جانا تھا، ہائی ویز پر پولیس کو دھوکہ دینے کیلئے استعمال کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک یہ پتہ چلا ہے کہ کشمیر میں کنٹرول لائن کے اس پار سے دہشت گردی کی حمایت اور اسے فروغ دینے کیلئے منشیات آرہی ہیں ۔ اورا س ریکیٹ میں تمام بڑی دہشت گرد تنظیموں کے رابطے سامنے آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں مزید گرفتاریوں کا امکان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کے علاقوں میں بین الاقوامی سرحد سے منشیات کی ڈرون سے گرائی گئی کھیپ کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں