0

کٹوتی سے بجلی کی فراہمی کا نظام ابتر کم وولٹیج سہان جان بیکار ہونے جانے والے ٹرانسفارمروں کو دوبارہ نصب کرنے کے لئے ہفتوں اور مہینوں کی طوالت کاسلسلہ جاری

سرینگر/ 07نومبر/اے پی آئی بجلی کے کٹوتی کے ساتھ ہی ٹرانسفار مروں کا بیکار ہونے کاسلسلہ بڑے پیمانے پرشروع اور عوامی حلقوں کے مطابق جب بھی برقی روبحال ہوتی ہے وہاں وولٹیج اس قدر کم ہوا کرتاہے کہ بلب کے نیچے لالٹین جلانے کی ضروت پڑتی ہے یہی وجہ ہے کہ ٹرانسفار مر بیکار ہورہے ہے اور ان ٹرانسفارموں کود وبارہ اپنی جگہ پرنصب کرنے کے لئے ہفتے اور مہینے انتظار کرنے پرمجبور ہونا پڑرہاہے۔اے پی آئی نیوز ڈیسک کووادی کے مختلف علاقوں سے لوگوں نے کہاکہ بجلی کٹوتی سر آنکھوں پر تا ہم جب بھی برقی رو بحال ہوتی ہے وولٹیج اس قدر کم ہوا کرتی ہے کہ روشنی دینے والے بلب کوبھی ڈوھونڈنے کے لئے لال ٹین جلانے کی ضرورت ہو اکرتی ہے۔شہرسرینگر میں بھی لوگوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ کم وولٹیج ہونے کے باعث صارفین کواپنے گھروں میں انواٹروں یاگیس سے چلنے والے بلبوں کو استعمال کرنے پر مجبور ہوناپڑرہاہے جب کہ بیشترلوگ جنریٹروں کااستعمال کرکے گھروں میں سورج ڈھلنے کے بعد روشنی کا انتظام کیاکرتے ہیں۔مختلف مکتب ہائی فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کہا شہروں میں 8 گھنٹے اورد یہیء علاقوں میں 24گھنٹوں کے بعدٹرانسفارمروں کودوبار اپنی جگہ پرنصب کرنے کے لئے ہفتوں مہینوں کاانتظار کرناپڑتاہے۔سرکار کادعویٰ ہے کہ بفر سٹاک حاصل کیاگیاہے او رورک شاپوں پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے رسیوینگ اسٹیشنوں میں موجود ہے تاہم کم وولٹیج کے باعث جھاڑے کے اس موسم میں تیزی کے ساتھ ٹرانسفارمربے کار ہورہے ہے اور پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے اعلیٰ بیکار ہونے کے بعد ٹرانسفار مر کو خود ورک شاپ تک پہنانے کی کوشش نہیں کرتے ہے بلکہ جس کالونی یا جس محلے میں کہی بھی ٹرانسفار مرخراب ہوعلاقے کے لوگوں کو ہلشری کرنا پڑتا ہیں رقومات جمع ہونے کے بعد ان بیکار ٹرانسفارمروں کو ورک شاپوں تک لوگ خو دپہنچاتے ہیں اور ورک شاپوں میں ان ٹرانسفارمروں کی مرمت کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیاجاتاہے۔پی ڈی ڈی والوں کاکہناہے کہ انہیں درکار سامان دستیاب نہیں ہوا کرتاہے اس کے لئے بڑے افسروں کاانتظار کرنا پڑتاہے ا و رجب وہ بازار سے سامان خرید کردے گی تب ہی ان کی مرمت ہوا کرتی ہے ٹرانسفارمر ٹھیک ہونے کے بعد یا ا سکی مرمت ہونے کے بعد علاقے کے لوگوں کوپھرہلشری کرنی پڑتی ہے تب جاکر ان کاٹرانسفارمراپنی جگہ نصب کیاجاتاہے او ریہ آج کی ہی روایت نہیں ہے ماضی میں بھی یہی کیاکرتے تھے۔ پی ڈی ڈی محکمہ نے جہاں کٹوتی میں اضافہ کردیاوہی صارفین کایہ الزام افسوس ناک ہے کہ وولٹیج بھی انتہائی کم ہوا کرتی ہے لوگ اپنے گھروں میں روشنی بھی نہیں کرپاتے ہے اسکے لئے انہیں دوسرے زررائع استعمال کرنے پرمجبورہوناپڑتاہے۔عوامی حلقوں کے مطابق جموں وکشمیرکے ایل جی نے 2020-2021-2022-2023میں بار بار یہ یقین دلایاکہ شہروں میں آٹھ گھنٹوں اورقصبوں میں بارہ گھنٹوں اور دور دراز دیہات میں 24گھنٹوں کے اندرا ند ر ٹرانسفارمروں کی جگہ نئے ٹرانسفار مر نصب کئے جاتے تاکہ عوام کوبرقی رو حاصل کرنے میں مشکلوں کاسامناناکرنا پڑے تاہم لوگوں کایہ کہناہے کہ ایل جی کااعلان عوام کے مطالبات کا آئینہ دار ہے تاہم پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن اسپر سنجیدہ نہیں لوگ کریں تو کیاکریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں