0

کپوارہ میں چار بچوں کو ایک ساتھ جنم دینے کا انوکھا واقع پیش آیا

کنبہ کی خوشیاں زیادہ دیر تک نہ رہیں ، چار میں سے تین کی موت ہوئی

سرینگر;23اکتوبر;وی او آئی;سرحدی ضلع کپوارہ میں اپنی نوعیت کے پہلے معاملے میں ایک خاتون نے ایک لڑکی سمیت چاربچوں کو ایک ساتھ جنم دیا تاہم کنبہ کی خوشیاں زیادہ دیر تک نہ رہ سکیں اور چار میں سے تین نوزائد بچوں کی موت واقع ہوئی ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق اتوار کے روز ایک حاملہ خاتون نے ایک ساتھ چار بچوں کو جنم دیا جو کہ پورے جموں کشمیر میں اپنی نوعیت کا پہلا واقع ہے ۔ چار بچوں کی ایک ساتھ پیدائش سے اگرچہ کنبہ کی خوشیوں کا ٹھکانہ نہ رہا لیکن ان کی یہ خوشیاں زیادہ دیر تک نہ رہیں اور چار میں سے تین بچے یکے بعد دیگرے دم توڑتے گئے ۔ خاتون کے قریبی رشتہ دار نے بتایا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایک خاتون کے ہاں پیدا ہونے والے چار بہن بھائیوں میں سے تین کی موت ہو گئی ہے ۔ رشتہ دار نے بتایا کہ ڈاکٹروں کے مطابق تینوں بچے \;39;کم وزن\;39; کی وجہ سے زندہ نہیں رہے ۔ ان بچوں میں دو لڑکے اور ایک لڑکی شامل ہے\;34;، رشتہ دار نے بتایا کہ ایک اور بچے کو جے وی سی ہسپتال بمنہ سری نگر ریفر کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ \;34;ہم مرکزی کیران سے تقریباً 8000 فٹ کی بلندی پر رہتے ہیں اور یہاں کوئی مناسب طبی صحت کی سہولت یا سڑک رابطہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم ضلعی انتظامیہ سے گزارش کرتے ہیں کہ مہربانی کرکے لوگوں کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے کافی طبی سہولیات اور مناسب سڑک رابطہ فراہم کریں ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کیرن کپواڑہ سے تعلق رکھنے والی خاتون کو پی ایچ سی کیرن میں درد زہ میں مبتلاء ہونے کے بعد ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور اسے آدھی رات کے قریب ایس ڈی ایچ کپوارہ ریفر کیا گیا تھا، جہاں اس نے ایک ساتھ چار بچے کو جنم دیا، جس میں تین لڑکے اور ایک لڑکی شامل تھی ۔ اگرچہ ڈاکٹروں نے بچوں کو پہلے نارمل قراردیا تھا لیکن ان کی وزن کم ہونے کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی ۔ ادھر ایک ڈاکٹر نے اس ضمن میں بتایا کہ اس طرح کے واقعات میں کم وزن والے بچوں کا بچنا مشکل ہوتا ہے اور یہ عام بات ہے کہ اگر جڑواں یا دو سے زائد بچے ایک ساتھ پیدا ہوتے ہیں تو ان میں سے سبھی بچے زندہ نہیں رہتے البتہ ہر معاملے میں یہ ہونا ضروری نہیں ہے خداوند کریم جس کو چاہئے زندگی بخشتا ہے ۔ اور کمزور ہونے کے باوجود بھی کسی معاملے میں سبھی بچے زندہ رہتے ہیں ۔ لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں