0

گریجویٹ پوسٹ گریجویٹ بے روزگاروں کو اسکولوں کالجوں میں عارضی بنیادوں پرتعینات کرنے کااعلان بے معنیٰ انرولمنٹ مہم کی کامیابی کے باوجود سرکاری اسکولوں کی تعدادمیں دن بدن کمی کاہوا انکشاف

سرینگر/27/اکتوبر/اے پی آئی سرکاری اسکولوں میں درس وتدریس کے عملے کی کمی کو دور کرنے کے لئے محکمہ تعلیم کی جانب سے زبانی جمع خرچ کے سواور کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی گریجویٹ اورپوسٹ گریجویٹ بے روز گاروں کوعارضی طوپراسکولوں ہائرسیکنڈریوں میں تعینات کرنے کے فیصلے کو عملانے میں تزبزت اب بھی برقرار جسکے نتیجے میں سرکاری اسکولوں میں زیرتعلیم طلاب کو تدریسی عملے کی کمی کی وجہ سے پریشانیوں کاساسامنا بھی کرنا پڑتاہے اور اس بات کابھی انکشاف ہوا ہے کہ جموں و کشمیرمیں سرکاری اسکولوں میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔اے پی آئی نیوز کے مطابق دو ماہ پہلے جموں و کشمیرمیں محکمہ تعلیم نے فیصلہ کیاتھا کہ اسکولوں ہائرسیکنڈریوں میں تدریسی عملے کی کمی کودور کرنے کے لئے عارضی بنیادوں پرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ بے روز گاروں کوماہانہ25 ہزار کی اجرت پرتعینات کیاجائیگا تاہم جموں و کشمیرمیں محکمہ تعلیم کایہ اعلان بھی پچھلے دو ماہ سے مسلسل بے معنیٰ ثابت ہورہاہے۔کسی بھی ضلع تحاصیل میں ابھی تک محکمہ تعلیم نے ایسا کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی کہ تدریسی عملے کی کمی کوپوراکرنے کے کسی گریجویٹ یاپوسٹ گریجویٹ بے روز گار کوتعینات کیاہو اور یہ بات اظہرشمش ہے کہ48%اسکولوں ہائرسیکنڈریوں میں تدریسی عملے کی کمی برُی طرح سے کھٹک رہی ہے طلاب سیلبس مکمل نہیں کرپارہے ہیں۔ سال گزرنے کے بعد سرکاری اسکولوں کے نتائج منفی سا منے آ رہے ہیں اور تدریسی عملے کی ا س کمی کوبرسوں سے پوراکرنے کے لئے صر ف دعوے کئے جاتے ہے عملی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہے۔کب سرکار تدریسی عملے کی کمی کودورکرنے کی خاطر اقدامات اٹھائے گی اسکاسبہی کوانتظار ہے۔ ادھراس بات کابھی انکشاف ہوا ہے کہ جموں و کشمیرمیں سرکاری اسکولوں میں تعدا دمیں مسلسل کمی آ رہی ہے اور 19%اسکولوں کی کمی درج کی گئی ہے۔سرکار نے کئی اسکولوں کوضم بھی کردیاتاہم اس کے باوجود اسکولوں میں کمی ہوناتشویش ناک ہے۔ انرول منٹ مہم بھی شروع کی گئی تھی ا سے بھی مثبت نتائج سامنے آئے تھے تاہم سرکاری اسکولوں میں میعا رکے مطابق تعلیم نہ ہونے اور زیرتعلیم طلبہ وطالبات کو سہولیات دستیاب نہ ہونے کے باعث لوگ اپنے لخت جگروں کوتعلیم کے نور سے آراستہ کرنے کے لئے پرائیویٹ اداروں کارُخ کرنے کی بھرپورکوشش کررہے ہیں۔ امیرہویاغریب ہر کوئی اپنے نونہال کو بہتر سے بہترتعلیم فراہم کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے یہ بات اظہر شمش ہے کہ ہمارے سرکاری اسکولوں میں ابھی بھی بجلی پینے کے پانی کی قلت سڑک کی عدم دستیابی موجود ہے سینکڑوں اسکولوں کی دیوار بندی نہیں ہے۔ایک ہی مرحلے میں پانچ سے چھ جماعتوں کے طلاب کودرس وتدریس سے آراستہ کیاجارہاہے اگرصوتحال ہو توسرکاری اسکولوں میں کمی آنالازمی ہے۔21 وی صدی میں لوگ اپنے نونہالوں کوتعلیم کے نور سے آراستہ کرناچاہتے ہیں تاہم محکمہ تعلیم کے اعلانات اونچی دوکان پھیکی پکوان کے مترادف ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں