0

ہماس اسرائیل جنگ نے اپنے سخت تیور دکھانا شروع کردیئے بین لاقوامی مارکیٹ میں 150 فی ڈالٹر مقرر غریب ترقی پذیرممالک کومشکلوں کاسامناہوگا/ والڈبینک

سرینگر/31/اکتوبر/اے پی آئی ہماس اسرائیل کے مابین جنگ نے اپنے تیور دکھاناشروع کردیئے۔والڈ بینک کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کے امکانات کو روکا نہیں جاسکتا،بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت 150ڈالرتک جاپہنچا ہے، جبکہ آنے والے گھنٹوں کے دوران اسمیں مزیداضافہ ہونے کے امکانات ہے اور اس اضافے سے غریب ترقی پزیرممالک کو کافی مشکلات کاسامناکرنا پڑیگا۔اے پی آئی نیوز ڈیسک کے مطابق ملک میں مزید مہنگائی بڑھ جانے کے امکانات ماہراقتصادیات نے ظاہر کئے ہے ہماس اور اسرائیل کے مابین جنگ چھڑجانے کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہاہے اور والڈبینک کی جانب سے جو اعداد شمارظاہر کئے ان کے مطابق بین الاقوامل مارکیٹ میں اس وقت خام تیل کی قیمتیں 150ڈالرتک جاپہنچا ہے اورآنے والے 24 گھنٹوں کے دوران مزیداضافے کے امکانات دکھائے جارہے ہے والڈبینک کے مطابق تیل فروخت کرنے والے ممالک کی تنظٰیم اوپیک بھی صورتحال پرقابو پانے میں نا کام ثابت ہورہی ہے اور تیل نکالنے کے رُح جان میں مسلسل کمی آرہی ہے۔خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بھارت،بنگلہ دیش پاکستان،شری لنکہ،مالدیپ،نئی پال،بھوٹان سمیت سینکڑوں ترقی پزیر اور غریب ممالک کی برآمداداور برآمداد متاثرہوسکتی ہے اورجوممالک تیل خریدنے پرمنحصر ہے ان کی بجٹ ڈھمبا ڈھول ہوسکتی ہے اضافی رقومات تیل خریدنے پرخرچ کرنی ہوگی جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گاتاہم روس یوکرین جنگ کے بعد اب اس ہماس اور سرائیل کے مابین تصاد م حیات بخش ادوایات کوبرُی طرح سے اپنی لپیٹ میں لے رہاہے۔ماہرین کے مطابق بین الاقوامی سطح پر تجارت کو متاثر ہونے کاخدشہ ہے اور ترقی پزیرممالک اپنازیادہ ترخام مال یورپ سے حاصل کر رہے ہیں اوریورپی ممالک کا انحصار تیل او رگیس کے معاملے میں روس اور اوپیک ممالک پرہے۔ماہراقتصادیت کے مطابق جنوبی ایشاء میں چین بھارت آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے ملک ہیں اور ان ممالک میں اگرمہنگائی بڑھ گئی توغریب عوام کوکافی مشکلوں کاسامناکرنا پڑیگا۔والڈبینک نے غریب اور ترقی پذیرممالک پرزور دیاکہ وہ اپنے اخراجات میں کمی لائے اور تیل کی مصنوعات خریدنے کی طرف اپنی توجہ مبزول کرے خلیج کی جانب فی الحال تھمنے کانام نہیں لے رہی ہے۔اسرائیل کے وزیراعظم نے اس بات کا اعلان کیاکہ فی الحال ہماس اوراسرائیل کے مابین جنگ بندی کے امکانات نہیں ہے۔ انہوں کہا کہ اگراسرائیل نے اپنے حملے روک دیئے تویہ سرنڈر کے مترادف ہوگا جب تک نہ ہماس کاآخری عسکریت پسندسامان نہیں ڈالے گایامارا نہیں جائیگا تب تک اسرائیل خاموش تماشائی بن کرنہیں رہے گا۔ا سرائیلی وزیرکے اس بیان کے بعد صورتحال مزید ابتر ہوئی ہے جسے غریب اور ترقی پزیرممالک کومزیدمشکلوں کاسامناکرنا پڑیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں