0

ہم دوبارہ بر سر اقتدار آتے تو تمام عارضی ملازم مستقل ہوئے ہوتے:عمر عبداللہ

جموں، 26 اکتوبر (یو این آئی) نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ اگر ہم دوبارہ بر سر اقتدار آتے تو تمام عارضی ملازموں کی نوکریاں مستقل ہوئی ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ ہماری سرکار نے عارضی ملازموں کو مستقل کرنے کا عمل شروع کیا تھا لیکن سیلاب کی وجہ سے یہ کام مکمل نہ ہوسکا۔
موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو ضلع پونچھ کے منڈی علاقے میں نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب دینے کے دوران کیا۔
عارضی ملازموں کی مستقلی کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا: ‘کیبنٹ کی ایک سب کمیٹی نے بیٹھ کر ملازموں کی تعداد مقرر کی تھی اور ان کی مستقلی کا عمل بھی شروع ہوا تھا لیکن پہلے سیلاب آیا اور پھر ہمارے اقتدار کا معیاد ختم ہوا’۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہماری دوبارہ سرکاری بنتی تو سارے عاضی ملازم آج مستقل ہوئے ہوتے۔
جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے بارے میں پوچھے جانے پر عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کو اسمبلی الیکشن کرانے کی ہمت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: ‘پارلیمانی الیکشن کرانا ان کی مجبوری ہے اگر مجبوری نہ ہوتی تو شاید یہ بھی نہ کراتے’۔
ان کا کہنا تھا : ‘ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ 2019 کے بعد یہاں حالات ٹھیک ہوئے اگر ایسا ہے تو پھر الیکشن کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں