سری نگر،19فروری(یو این آئی) جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو اسمبلی میں واضح کیا کہ ماحولیاتی تباہ کاریوں اور بدلتی موسمی صورتحال کے اثرات نے ماحولیاتی ردعمل کو اختیاری نہیں بلکہ ناگزیر مجبوری بنا دیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مرکزکے زیرانتظام علاقے میں ایک ایسا مخصوص محکمہ قائم کیا جائے جو صرف اور صرف موسمیاتی تبدیلی کے مطالعے اور اس کے خطے پر اثرات کا سائنسی و عملی تجزیہ کرے۔
ڈیمانڈز فار گرانٹس پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ برس غیر معمولی بارشوں، سیلابی صورتحال اور متعدد علاقوں میں پیدا ہونے والی خشک سالی نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ موسمیاتی تغیرات کو نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں۔
عمر عبداللہ نے بتایا کہ حکومت نے ماحولیاتی عمل داری کے لیے ایک خصوصی فنڈ قائم کیا ہے اور اس کے لئے ابتدائی کارپس بھی مختص کیا گیا ہے، تاکہ موسمیاتی موافقت اور تخفیف سے متعلق پراجیکٹس کو ادارہ جاتی معاونت فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے سی پی آئی (ایم) کے رکن ایم وائی تاریگامی کے اس مطالبے سے اتفاق کیا کہ جموں و کشمیر کے لیے ’کلائمیٹ بجٹ‘ اب دور کی بات نہیں بلکہ ایک حقیقی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ کے مطابق بنیادی قدم یہ ہونا چاہئے کہ پہلے ایک واضح ذمہ داری کسی مخصوص محکمہ کے سپرد کی جائے جو اس پورے مسئلے کا سائنسی تجزیہ کرے۔ ان کے مطابق ’فی الحال کسی بھی محکمہ کے پاس موسمیاتی تبدیلی کا باقاعدہ مینڈیٹ موجود نہیں۔ بجٹ سازی سے پہلے ہمیں یہ جانچنا ہوگا کہ موسمیاتی تبدیلی کس حد تک ہمیں متاثر کر رہی ہے اور اس کے اثرات کم کرنے کے کیا طریقے ہو سکتے ہیں۔‘
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جیسے ہی جامع جائزہ سامنے آئے گا اور ادارہ جاتی ذمہ داری متعین ہوگی، حکومت موسمیاتی لچک میں اضافے کے لیے مخصوص اور موثر بجٹ اقدامات اٹھائے گی۔
0
