0

رمضان المبارک کے پہلے جمعے پر وادی میں نورانی فضاء، حضرت بل اور جامع مسجد میں لاکھوں کا روح پرور اجتماع

سری نگر،20 فروری(یو این آئی) رمضان المبارک کے پہلے جمعے کے موقعے پر وادی کشمیر میں روح پرور اور نورانی ماحول دیکھنے کو ملا، جہاں ہزاروں کی تعداد میں فرزندانِ توحید مساجد، خانقاہوں اور درگاہوں میں امڈ آئے۔ سب سے بڑے اجتماعات درگاہ حضرت بل اور جامع مسجد سری نگر میں منعقد ہوئے، جہاں دور دراز علاقوں سے آئے عقیدت مندوں نے خصوصی دعاؤں، نوافل اور تلاوتِ قرآن میں حصہ لیا۔
درگاہ حضرت بل میں زائرین کا جمِ غفیر صبح سے ہی جمع ہونا شروع ہوگیا تھا اور دوپہر تک پورا علاقہ نورانی ماحول میں ڈھل چکا تھا۔ عبادت کے دوران خطیبِ درگاہ نے رمضان المبارک کی روحانی عظمت، تزکیۂ نفس اور خدمتِ خلق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا، ’رمضان ہم سے صرف بھوک برداشت کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ یہ ہمارے دلوں کو نرم کرنے، دوسروں کے دکھ درد بانٹنے اور برائیوں سے نجات حاصل کرنے کا مہینہ ہے۔‘
ایک بزرگ نمازی نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’آج کے روح پرور اجتماع نے دل میں وہ سکون دیا، جو لفظوں میں بیاں نہیں ہو سکتا۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے رحمتیں وادی پر چھائی ہوئی ہوں۔‘
ادھر تاریخی جامع مسجد سری نگر میں بھی نمازِ جمعہ ایک عظیم الشان اجتماع میں تبدیل ہوگئی۔ صحن، گلیاں اور گرد و نواح کے تمام راستے عبادت گزاروں سے بھر گئے تھے۔ مقررین نے نوجوانوں کو معاشرتی اصلاح، برداشت اور امن کے فروغ کا پیغام دیا۔ میر واعظ مولوی عمر فاروق نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت باہمی احترام، اعتدال اور مثبت سوچ کی ہے۔ رمضان ہمیں اپنے نفس کو قابو کرنے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
وادی کے دوسرے اضلاع،اننت ناگ، بارہمولہ، کپواڑہ، گاندربل، شوپیاں اور بڈگام میں بھی منظم اور پُرسکون اجتماعات دیکھنے کو ملے۔ انتظامیہ کی جانب سے ٹریفک پلان، سیکورٹی، صفائی اور پانی کی فراہمی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ حضرت بل اور جامع مسجد میں خواتین کے لیے علیحدہ جگہیں مختص تھیں، جب کہ طبی امداد کے مراکز بھی قائم کیے گئے۔
نماز کے بعد تمام مقامات پر امتِ مسلمہ، کشمیر کے امن و استحکام، بیماروں کی شفایابی اور نوجوان نسل کی کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ کئی خطیبوں نے سماج میں بڑھتی برائیوں، منشیات کے مسئلے اور خاندانی تربیت کی کمزوریوں پر تشویش کا اظہار کیا اور والدین کو گھریلو نگرانی مضبوط بنانے کی تاکید کی۔
ایک نوجوان نے اپنے تاثرات میں کہا، ’پہلا جمعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ رمضان تقویٰ، کردار سازی اور بہتر انسان بننے کا مہینہ ہے۔ آج کی فضا نے دل کو واقعی بدلنے پر آمادہ کر دیا۔‘
وادی میں رمضان المبارک کا آغاز ہی ایمان افروز ماحول سے ہوا ہے اور پہلے جمعے کے عظیم اجتماعات نے اس نورانی فضا میں مزید ٹھہراؤ اور روحانیت پیدا کر دی ہے۔ عوام نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مبارک مہینہ وادی کے لیے امن، خیر اور خوش حالی کا پیغام ثابت ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں