0

امریکہ اور ایران مستقل امن معاہدے کے قریب پہنچ گئے، امریکی میڈیا کا دعویٰ

واشنگٹن 24 مئی (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات سے باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی شام تک ایک حتمی امن معاہدے کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

امریکی اخبار ’’واشنگٹن ٹائمز‘‘ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ امریکہ اور ایران مختلف محاذوں پر جاری ناکہ بندی اور تصادم کے خاتمے کیلئے ایک جامع معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق معاہدے کے مسودے پر ہفتے کی صبح ابتدائی اوقات میں اتفاق رائے ہو گیا تھا، تاہم اس کی شرط یہ رکھی گئی کہ باقاعدہ اعلان 24 گھنٹوں کے اندر کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اعلیٰ مذاکرات کار مجوزہ معاہدے کے حتمی متن پر متفق ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مذاکرات میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل رہے۔

ذرائع کے مطابق امن معاہدے کا ابتدائی مسودہ دونوں ممالک کی قیادت کو حتمی منظوری کیلئے بھیج دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ گزشتہ چھ ہفتوں سے جاری نازک جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کر سکتا ہے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امکان کا بھی ذکر کیا کہ جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، جس سے صورتحال اب بھی غیر یقینی دکھائی دے رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے اہم معاملات بدستور حساس تصور کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز بڑی حد تک تجارتی جہاز رانی کیلئے بند رہی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈی شدید متاثر ہوئی۔

اس دوران پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے بھی تہران میں اہم مذاکرات کیے، جن کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنا اور خطے میں کشیدگی کا خاتمہ تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں