ماسکو، 24 مئی (اسپوتنک/یو این آئی) امریکہ اور ایران جنگ بندی میں 60 دنوں کی توسیع کے لیے ایک مفاہمت نامہ (ایم او یو) پر دستخط کر سکتے ہیں، جس کے دوران آبنائے ہرمز بغیر کسی ٹول ٹیکس کے کھلا رہے گا۔ یہ دعویٰ ‘ایکسیئوس’ پورٹل نے نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی عہدیدار کے حوالے سے کیا ہے۔
اس سے قبل، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کو کافی حد تک حتمی شکل دی جا چکی ہے اور اس کے آخری پہلوؤں اور تفصیلات پر بات چیت جاری ہے، جس کا جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔
پورٹل کے مطابق، مذکورہ اہلکار نے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت نامے کے مسودے (ڈرافٹ) کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ اشاعت میں بتایا گیا ہے کہ دونوں فریق ایک مفاہمت نامے پر دستخط کریں گے جو 60 دنوں کے لیے کارآمد ہوگی اور باہمی رضامندی سے اس میں توسیع کی جا سکے گی۔ ان 60 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز بغیر کسی ٹول کے کھلا رہے گا، اور ایران بحری جہازوں کی بلاروک ٹوک آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں (مائنز) کو ہٹانے پر راضی ہوگا۔
پورٹل نے رپورٹ کیا کہ اس کے بدلے میں امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے گا اور ایران کو کچھ چھوٹ دے گا تاکہ وہ آزادانہ طور پر تیل فروخت کر سکے۔ امریکی اہلکار نے واضح کیا کہ تہران جتنی جلدی آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹائے گا اور جہاز رانی بحال ہوگی، اتنی ہی جلدی یہ ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی۔
ایکسیئوس نے امریکی اہلکار کے حوالے سے مزید بتایا کہ مفاہمت نامے کے مسودے میں ایران کا یہ عزم بھی شامل ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، اور وہ اپنے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو معطل کرنے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ہٹانے کے لیے مذاکرات کرے گا۔
صورتحال سے واقف دو ذرائع نے پورٹل کو بتایا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو ان رعایتوں کے حجم کے بارے میں “زبانی یقین دہانیاں” کرائی ہیں جو وہ افزودگی کی معطلی اور جوہری مواد کو ترک کرنے کے حوالے سے دینے کے لیے تیار ہے۔
0
