سرینگر: مرکز اور لداخ کی مختلف تنظیموں کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کے بعد جموں و کشمیر کی علاقائی سیاسی جماعتوں پر تنقید میں شدت آ گئی ہے۔ ناراض رکنِ پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے اس پیش رفت کو جموں و کشمیر کی قیادت کے لیے ’’ایک طمانچہ‘‘ قرار دیا ہے۔ آغا روح اللہ مہدی نے کہا کہ ’’یہ جموں و کشمیر کے لیڈروں کے لیے ایک طمانچہ ہے۔ لداخ ایک چھوٹا خطہ ہے مگر وہاں کی قیادت نے اپنے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ میں گزشتہ چھ برسوں سے جموں و کشمیر کی قیادت سے بھی ایسی ہی مزاحمت اور جدوجہد کی توقع کر رہا تھا۔ لداخ کی قیادت نے راستہ دکھا دیا ہے۔‘‘
یہ ردِعمل اُس وقت سامنے آیا جب لیہہ اپیکس باڈی (ایل اے بی) اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے نئی دہلی میں مرکزی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران ’’اصولی اتفاقِ رائے‘‘ حاصل کر لیا۔ یہ دونوں تنظیمیں گزشتہ چھ برسوں سے مکمل ریاستی درجہ اور آئین کی ششم شیڈول کے تحت تحفظات کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریک چلا رہی تھیں۔ اب مرکز کے ساتھ ہونے والے اس سمجھوتے میں لداخ میں جمہوری نظام کی بحالی پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اگرچہ لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ ابھی پورا نہیں ہوا، تاہم مذاکرات میں آئین کے آرٹیکل 371 کی مختلف شقوں (اے، ایف اور جی) جیسی آئینی ضمانتوں پر بات ہوئی، جو ناگالینڈ، سکم اور میزورم میں زمین اور ملازمتوں سے متعلق خصوصی تحفظات فراہم کرتی ہیں اور مرکزی مداخلت کو محدود کرتی ہیں۔ لیہہ اپیکس باڈی کے شریک کنوینر چرنگ دورجے لکروک نے واضح کیا کہ انہوں نے ریاستی درجہ کے مطالبے سے دستبرداری اختیار نہیں کی بلکہ اس ’’اصولی سمجھوتے‘‘ کو منزل کی جانب ایک قدم قرار دیا۔ ان کے مطابق جب خطہ اپنے اخراجات خود سنبھالنے کے قابل ہو جائے گا تو ریاستی درجہ حاصل کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔
سیاسی تجزیہ نگار اور مصنف ظفر چودھری نے کہا کہ لداخ کی سیاسی جدوجہد طویل المدتی حکمتِ عملی پر مبنی رہی ہے۔ ان کے مطابق 1950 میں بھی لداخ نے ایک یادداشت کے ذریعے خواہش ظاہر کی تھی کہ اسے براہِ راست نئی دہلی کے زیر انتظام رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ لداخ کو مختلف مرحلوں میں سیاسی فوائد حاصل ہوتے رہے، یہاں تک کہ 2019 میں اسے مرکز کے زیر انتظام علاقہ (یونین ٹیریٹری) کا درجہ مل گیا۔ تاہم ایک سال بعد ہی وہاں کی قیادت نے محسوس کیا کہ صرف یو ٹی ماڈل کافی نہیں بلکہ اندرونی خودمختاری بھی ضروری ہے۔
ظفر چودھری کے مطابق لداخ کی قیادت نے سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور مذہبی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، جبکہ لیہہ اور کارگل نے تاریخی اختلافات کو پس پشت ڈال کر مشترکہ محاذ قائم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب لداخ کو ’’371 پلس‘‘ طرز کا ایک مضبوط نظام ملنے جا رہا ہے جس میں چیف ایگزیکٹو کے اختیارات پہلے سے کہیں زیادہ ہوں گے۔
اس معاہدے کے بعد جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتیں، خصوصاً نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، شدید بحث و تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد ان جماعتوں نے دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر ’’پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن‘‘ (پی اے جی ڈی) تشکیل دیا تھا، جس کا مقصد جموں و کشمیر کی سابقہ آئینی حیثیت کی بحالی تھا، مگر بعد میں بلدیاتی انتخابات میں نشستوں کی تقسیم پر اختلافات کے باعث یہ اتحاد ٹوٹ گیا۔
طالب علم رہنما میر مجیب نے لداخ کی مسلسل جدوجہد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے نام نہاد سیاسی ’’قد آور لیڈر‘‘ آپس کی لڑائیوں میں الجھے ہوئے ہیں اور ایک معمولی ریزرویشن مسئلہ بھی حل نہیں کرا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہی وژن اور محض سیاسی ڈرامے میں فرق ہے۔‘‘ ظفر چودھری نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ جموں اور کشمیر کے دونوں خطوں کے درمیان کوئی متحدہ سیاسی کوشش نظر نہیں آتی۔ ان کے مطابق طویل تنازعے اور اندرونی تقسیم نے خطے کو کمزور کر دیا ہے۔
دوسری جانب ایم وائی تاریگامی نے علاقائی جماعتوں کا دفاع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ نئی دہلی نے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدگی نہیں دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت اور اپوزیشن دونوں اسمبلی میں ریاستی درجہ اور آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے قراردادیں منظور کر چکے ہیں، مگر مرکز نے نہ تو بات چیت شروع کی اور نہ ہی اختیارات کی تقسیم کے لیے کاروباری قواعد منظور کیے۔
تاریگامی نے کہاکہ ’’لداخ میں احتجاج اور تشدد کے بعد ہی مرکز نے وہاں کی قیادت سے بات کی۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ نئی دہلی صرف اسی وقت سنتا ہے جب لوگ سڑکوں پر نکل آئیں؟‘‘ تاہم ظفر چودھری کا ماننا ہے کہ صرف اسمبلی میں قراردادیں منظور کرنا کافی نہیں بلکہ مطالبات کے لیے مشترکہ سیاسی تحریک چلانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ’’نئی دہلی سے اختیارات حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا پڑتا ہے، مگر جموں و کشمیر میں ایسی کوئی تحریک یا عوامی مہم نظر نہیں آ رہی۔‘‘(ETV BHARAT)
