0

محکمہ دیہی ترقی کو شدید انتظامی بحران کا سامنا

کشمیر کے 57 بلاک مستقل بی ڈی اوز سے محروم، دیہی ترقیاتی منصوبے متاثر
اضافی چارج نظام کے باعث انتظامی دباو ¿ میں اضافہ، منریگا اور صفائی منصوبوں کی رفتار سست

سرینگر//24 مئی/ جموں و کشمیر کے محکمہ دیہی ترقی کو شدید انتظامی بحران کا سامنا ہے کیونکہ وادی کشمیر کے 57 بلاکس مستقل بلاک ڈیولپمنٹ افسراں کے بغیر چلائے جا رہے ہیں، جس کے باعث متعدد دیہی ترقیاتی اور فلاحی منصوبے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق کشمیر کے دس اضلاع میں قائم 139 بلاکوں میں سے 57 بلاکوں گزشتہ تقریباً 2برسوں سے ”اضافی چارج“ نظام کے تحت چل رہے ہیں۔ یو این ایس کے مطابق اس صورتحال میں کئی بی ڈی اوز اور ولیج لیول افسران ایک ساتھ2یا3،اور بعض معاملات میں 4 بلاکوں کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، جس کے باعث انتظامی بوجھ بڑھ گیا ہے اور ترقیاتی سرگرمیوں کی نگرانی شدید متاثر ہو رہی ہے۔حکام کے مطابق محکمہ دیہی ترقی، جو دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے، روزگار کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور صفائی ستھرائی جیسے اہم شعبوں کا ذمہ دار ہے، منظور شدہ اسامیوں کے باوجود خالی پڑی بی ڈی او پوسٹوں کو پ ±ر کرنے میں ناکام رہا ہے۔ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ایک افسر کیلئے دور دراز دیہی علاقوں میں پھیلے متعدد بلاکس کی نگرانی کرنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق منصوبوں کا معائنہ، ترقیاتی کاموں کا جائزہ اور میٹنگز کا انعقاد شدید متاثر ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں زمینی سطح پر ترقیاتی عمل سست پڑ گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ مستقل تقرریوں میں تاخیر کے باعث محکمہ میں ”اضافی چارج کلچر“ مستقل شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس صورتحال نے خاص طور پر مرکزی معاونت والی اسکیموں، جیسے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ اور سوچھ بھارت مشن،گرامین کے نفاذ کو متاثر کیا ہے۔حکام کے مطابق دیہی علاقوں میں سائنسی طریقے سے کچرے کی نکاسی، مائع فضلے کے انتظام اور گھر گھر صفائی مہم جیسے کئی منصوبے بلاک سطح پر مستقل افسران کی عدم دستیابی کے باعث متاثر ہو رہے ہیں۔ اسی طرح پردھان منتری دیہی رہائشی اسکیم کے تحت جاری مکانات اور دیگر تعمیری منصوبوں میں بھی تاخیر سامنے آ رہی ہے۔سرکاری قواعد کے مطابق بی ڈی او کی 50 فیصد اسامیاں جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے براہ راست بھرتی جبکہ باقی اسامیاں ترقیوں کے ذریعے پ ±ر کی جانی تھیں، تاہم گزشتہ دو برسوں کے دوران نہ نئی بھرتیاں عمل میں آئیں اور نہ ہی ترقیوں کا عمل مکمل ہو سکا۔ذرائع کے مطابق متعدد امیدوار تقرری کے تمام مراحل، بشمول تصدیقی عمل اور ویٹنگ لسٹ کلیئرنس، مکمل کر چکے ہیں لیکن اب تک باضابطہ تقرری احکامات جاری نہیں کیے گئے۔حکام نے انکشاف کیا کہ 27 جنوری 2026 کو محکمہ کو دس دن کے اندر تقرری عمل مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم چار ماہ گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ادھر افسران کا کہنا ہے کہ بی ڈی اوز کی کمی کے باعث ترقیاتی فنڈز، ضلعی ترقیاتی منصوبوں اور ارکان اسمبلی کے حلقہ جاتی فنڈز کے استعمال اور منتقلی کا عمل بھی متاثر ہو رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں صورتحال مزید سنگین بتائی جا رہی ہے جہاں صرف دس بی ڈی اوز 22 بلاکوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ بعض افسران کے پاس بیک وقت چار بلاکس کی اضافی ذمہ داری ہے۔ ناقص کارکردگی کے باعث حال ہی میں اسسٹنٹ کمشنر ڈیولپمنٹ کپواڑہ نے دس بی ڈی اوز اور فیلڈ اہلکاروں کی تنخواہیں اور اعزازیے روکنے کے احکامات بھی جاری کیے تھے۔حکام کے مطابق مالی سال 2026-27کی پہلی سہ ماہی کے دوران منریگا منصوبوں کے تحت مزدوری دنوں کی تخلیق اور ترقیاتی اہداف انتہائی ناقص پائے گئے، جس پر ضلعی انتظامیہ نے سخت برہمی ظاہر کی۔محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج کے وزیر جاوید احمد ڈارسے اس معاملے پر ردعمل لینے کی کوشش کی گئی تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں