0

’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ اور ’’بی پارٹی آف انڈیا‘‘ سوشل میڈیا پر مقبول

نئی دہلی۔ 24؍ مئی۔ ایم این این۔بھارت کے ڈیجیٹل اور سیاسی منظرنامے میں حالیہ دنوں دو نئی طنزیہ سیاسی تحریکوں ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘(CJP) اور ’’بی پارٹی آف انڈیا‘‘ (BPI) نے غیرمعمولی توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ دونوں جماعتیں نوجوانوں کے مسائل، بے روزگاری، مہنگائی، سیاسی مایوسی اور سوشل میڈیا کلچر کو طنز و مزاح کے انداز میں پیش کر رہی ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے خاص طور پر نوجوان طبقے میں تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق پارٹی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کروڑوں فالوورز جمع ہو چکے ہیں، جبکہ یہ خود کو “سست اور بے روزگار نوجوانوں کی آواز” قرار دیتی ہے۔ یہ تحریک اس وقت شروع ہوئی جب بھارت کے چیف جسٹس کے ایک بیان میں بے روزگار نوجوانوں کو “کاکروچ” اور “معاشرے پر بوجھ” قرار دینے پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ اس کے بعد نوجوانوں نے اسی اصطلاح کو احتجاجی اور طنزیہ علامت کے طور پر اپنا لیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے، جو مبینہ طور پر سیاسی کمیونیکیشن کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ تحریک روایتی سیاست کے خلاف نوجوانوں کے غصے اور مایوسی کی عکاسی کرتی ہے۔ دوسری جانب “بی پارٹی آف انڈیا” نسبتاً نرم اور مثبت انداز اپناتے ہوئے سماجی ہم آہنگی، تخلیقی سوچ اور اجتماعی تعاون کا پیغام دے رہی ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ جہاں کاکروچ جنتا پارٹی مزاحمت اور احتجاج کی علامت بن رہی ہے، وہیں بی پارٹی آف انڈیا “تعمیر” اور “اجتماعی کام” کی زبان بولتی دکھائی دیتی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ نئی ڈیجیٹل تحریکیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بھارت کا نوجوان طبقہ روایتی سیاسی جماعتوں سے ہٹ کر اظہار کے نئے طریقے تلاش کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں