تہذیب، یادوں اور بدلتے وقت کے بیچ اپنی شناخت بچانے کی جدوجہد
شہر خاص کی گلیوں، خانقاہوں اور بازاروں میں ماضی کی بازگشت آج بھی دلنشین
قدیم شہر کی ثقافت، باہمی رشتوں اور روایتی زندگی پر جدید تبدیلیوں کے گہرے اثرات
سرینگر//24 مئی/ شہرسرینگر صدیوں سے صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ تہذیب، روحانیت، تجارت، ثقافت اور باہمی ہم آہنگی کا ایسا مرکز رہا ہے جس نے مختلف ادوار کے سیاسی اور سماجی اتار چڑھاو ¿ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ وقت کے بدلتے دھاروں، شورش، نقل مکانی، جدید شہری منصوبہ بندی اور تیز رفتار سماجی تبدیلیوں کے باوجود سرینگر آج بھی اپنی مخصوص شناخت، روایتوں اور اجتماعی یادداشت کو سنبھالے ہوئے ہے۔یو این ایس کے مطابق شہرخاص کی تنگ گلیاں، قدیم لکڑی کے مکانات، جھلم کے کنارے آباد محلے، تاریخی پ ±ل، خانقاہیں، درگاہیں اور بازار آج بھی ماضی کی ان تہذیبی پرتوں کی نمائندگی کرتے ہیں جن میں مختلف برادریوں، مذاہب اور طبقوں نے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزاری۔ بزرگ شہریوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں محلوں کی بنیاد صرف مذہب یا ذات پر نہیں بلکہ باہمی تعلقات، روزمرہ میل جول، دکھ سکھ کی شراکت اور سماجی احترام پر قائم تھی۔یو این ایس کے مطابق سرینگر کے پرانے علاقوں حبہ کدل، رعناواری، فتح کدل، گنپت یار، نوہٹہ، زینہ کدل اور کورٹ روڈ جیسے علاقوں میں کبھی مختلف طبقوں اور برادریوں کے لوگ ایک دوسرے کے قریب رہتے تھے۔ مقامی باشندوں کے مطابق تہوار، شادی بیاہ، مذہبی تقریبات اور روزمرہ معاملات میں ایک دوسرے کی شرکت شہر کی سماجی زندگی کا اہم حصہ ہوا کرتی تھی۔ماہرینِ سماجیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران شورش، ہجرت، سیکورٹی حالات اور سیاسی بے یقینی نے سرینگر کی سماجی ساخت کو گہرے طور متاثر کیا۔ کئی تاریخی محلے ویرانی، خستہ حالی اور آبادی کے بدلتے رجحانات کا شکار ہوئے جبکہ نئی تعمیرات اور تجارتی توسیع نے قدیم طرزِ تعمیر اور روایتی شناخت کو بھی متاثر کیا۔معاشی سطح پر بھی شہر نے بڑے تغیرات دیکھے ہیں۔ ایک زمانے میں جہلم سرینگر کی معیشت، آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں کی شہ رگ تصور کیا جاتا تھا، تاہم وقت کے ساتھ دریائی ٹرانسپورٹ تقریباً ختم ہو گئی۔ اس تبدیلی نے نہ صرف شہر کے معاشی ڈھانچے کو متاثر کیا بلکہ کئی تاریخی گھاٹ اور کنارے بھی اپنی اہمیت کھو بیٹھے۔شہر کے بزرگ تاجروں کا کہنا ہے کہ سرینگر کی قدیم منڈیاں، دستکاری مراکز، کاغذی ماشہ، قالین بافی، تانبہ سازی اور روایتی بازار کبھی پورے خطے کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے تھے، لیکن جدید تجارتی نظام، درآمدی اشیا اور بدلتے رجحانات نے روایتی صنعتوں کو کمزور کر دیا ہے۔ اس کے باوجود شہر کے کئی علاقے آج بھی کشمیری ہنرمندی اور دستکاری کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ثقافتی سطح پر سرینگر کی خانقاہیں، زیارت گاہیں اور مذہبی مراکز آج بھی سماجی اور روحانی زندگی کا مرکز سمجھے جاتے ہیں۔ حضرت بل، خانقاہِ معلیٰ، مخدوم صاحبؒ، دستگیر صاحبؒ اور دیگر مقدس مقامات پر نہ صرف مذہبی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں بلکہ یہ مقامات سماجی میل جول، خواتین کی شرکت اور اجتماعی سکون کا ذریعہ بھی سمجھے جاتے ہیں۔سماجی ماہرین کے مطابق سرینگر کی خواتین نے ہمیشہ گھریلو اور سماجی زندگی میں خاموش مگر اہم کردار ادا کیا ہے۔ پرانے وقتوں میں خواتین مذہبی اجتماعات، زیارتوں، گھریلو روایات، دستکاری اور خاندانی نظام کے ذریعے سماج کا اہم حصہ تھیں، جبکہ آج بھی شہر کی سماجی و ثقافتی شناخت میں ان کا کردار نمایاں ہے۔شہر کے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ جدید طرزِ زندگی، انٹرنیٹ، شہری دباو ¿ اور محدود عوامی مقامات نے نوجوان نسل کی سوچ اور طرزِ زندگی کو تبدیل کیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود سرینگر کے لوگ اپنی زبان، کھانوں، لباس، تہذیب اور روایتی میل جول سے وابستگی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ماہرینِ شہریات کے مطابق سرینگر اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں ایک طرف جدید ترقیاتی منصوبے، سمارٹ سٹی پروجیکٹس اور نئی تعمیرات ہیں جبکہ دوسری طرف تاریخی شناخت، ثقافتی ورثے اور سماجی توازن کو محفوظ رکھنے کا چیلنج بھی موجود ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر قدیم آبادی، تاریخی عمارتوں، روایتی بازاروں، دریائی ثقافت اور سماجی ہم آہنگی کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ کئے گئے تو سرینگر اپنی اصل تہذیبی روح سے محروم ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر صرف عمارتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یادوں، تعلقات، ثقافت اور اجتماعی زندگی کا نام ہے، جسے محفوظ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
